گنگٹوک، 28 اپریل (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ قدرتی کھیتی کا سکم ماڈل پورے ملک کے لیے ایک تحریک ہے اور سکم کا طرزِ زندگی اور یہاں کے لوگوں کا عزم ملک کے مستقبل کے خوابوں کا حصہ بن چکا ہے۔
وزیر اعظم مودی منگل کی صبح ریاست کے 50 ویں یومِ تاسیس کی تقریبات کے اختتام کے موقع پر ایک جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سکم میں بہت زیادہ صلاحیتیں موجود ہیں اور ان میں سے ایک اہم شعبہ کھیل ہے، جہاں نوجوانوں نے اپنی قابلیت اور ٹیلنٹ کو ثابت کیا ہے۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ ان کی حکومت 'کھیلو انڈیا' جیسے پروگراموں کے ذریعے ملک بھر میں کھیلوں کی حوصلہ افزائی اور سہولیات میں اضافے کے لیے کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سکم نے اپنے ترقیاتی سفر میں نمایاں پیش رفت کی ہے، لیکن ہمیں سکم کو مزید تیز رفتاری سے آگے بڑھانے اور 'وکست بھارت' کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے سخت محنت کرنی ہے تاکہ ریاست کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جا سکے۔
سکم میں صفائی ستھرائی، خوبصورتی اور یہاں کے لوگوں کی نرم مزاجی کی تعریف کرتے ہوئے ٍوزیر اعظم مودی نے کہا کہ مرکزی حکومت ریاست میں انفراسٹرکچر کی ترقی کو مکمل ترجیح دے رہی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ''ایک سب سے اچھی بات جو مجھے پورے راستے نظر آئی، وہ سکم کی سڑکوں کی صفائی تھی۔ دور دور تک کوئی گندگی نہیں، ہوا میں بھی پاکیزگی اور سڑکوں پر بھی صفائی، سکم کے لوگ فطرت کے حقیقی محافظ اور سچے سفیر ہیں۔''
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ''ہم سکم میں کنیکٹیوٹی اور انفراسٹرکچر پر سب سے زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں یہاں سینکڑوں کلومیٹر ہائی ویز تعمیر کی گئی ہیں اور گاؤں گاؤں تک سڑکیں پہنچانے کے لیے کام تیزی سے جاری ہے۔''
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ان کی حکومت ریاست کے لوگوں کو سستا علاج فراہم کرنے کے لیے صحت کی سہولیات پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے 'آیوشمان یوجنا' (جس کے تحت 70 سال سے زائد عمر کے تمام افراد کو مفت علاج کی سہولت ملتی ہے) اور 'جن اوشدھی مراکز' کا ذکر کیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سکم کی سیاحت پر مبنی معیشت ریاست کی ایک بڑی طاقت ہے۔ یہ ریاست ملک کے کل رقبے کا صرف ایک فیصد ہے، لیکن یہ ہندوستان کے نباتیاتی تنوع کے ایک چوتھائی حصے کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہاں پرندوں کی 500 انواع، 700 اقسام کی تتلیاں اور کنچن جنگا کی شاندار چوٹیاں موجود ہیں۔ ریاست کی قدرتی خوبصورتی سیاحوں کو مسحور کر دیتی ہے اور انہیں یہاں بار بار آنے کی ترغیب دیتی ہے۔