نئی دہلی، 13 مارچ (یو این آئی) سپریم کورٹ نے تمام اداروں میں خواتین کے لیے ماہواری کی با معاوضہ چھٹی کی درخواست والی رٹ پٹیشن کو جمعہ کے روز خارج کر دیا۔
چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوایمالیہ باغچی پر مشتمل بنچ نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورت سے ماہواری کی چھٹی کی پالیسی وضع کرنے کے لیے عرضی گزار کی درخواست پر غور کرے۔ عدالت نے خدشہ ظاہر کیا کہ قانون سازی کے ذریعے ماہواری کی چھٹی کو لازمی قرار دینے سے خواتین کی ملازمت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
عدالت عظمیٰ نے کہا کہ اس سے آجروں کی طرف سے خواتین کو ملازمت دینے کی حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے، جس سے افرادی قوت میں ان کی شرکت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
درخواست گزار نے سپریم کورٹ سے اس بات کو یقینی بنانے کی استدعا کی تھی کہ خواتین خواہ طالبات ہوں یا کام کرنے والے پیشہ ور افراد کو ماہواری کے دوران چھٹی دی جائے۔
بنچ نے عرضی گزار شیلیندر منی ترپاٹھی کے ذریعہ پٹیشن فائل کرنے پر بھی سوال اٹھایا، اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ کسی خاتون نے خود عدالت سے رجوع نہیں کیا۔