نئی دہلی، 12 مارچ (یو این آئی) لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے جمعرات کو کہا کہ ایوان قواعد و ضوابط اور روایات کے مطابق چلتا ہے، لہٰذا اس میں اعلیٰ روایات اور وقار کو برقرار رکھنے کے لیے اجتماعی عزم کیا جائے اور اجتماعی مشاورت ہونی چاہیے۔
مسٹر برلا اپنے خلاف لائی گئی تحریکِ عدم اعتماد کے لوک سبھا میں مسترد ہونے کے بعد جمعرات کو ایوان میں آئے۔ انہوں نے کہا کہ "میں نے اپنے اخلاقی فرض کی تعمیل کرتے ہوئے، اپنے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کا نوٹس دیے جانے کے ساتھ ہی لوک سبھا کی کارروائی کی صدارت سے خود کو الگ کر لیا تھا۔ ایوان کی جانب سے مجھ پر ظاہر کیے گئے اعتماد کے لیے سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اس اعتماد کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے پوری دیانتداری، غیر جانبداری اور آئینی وقار کے ساتھ نبھاؤں گا۔"
انہوں نے مزید کہا کہ کچھ اراکین کا خیال تھا کہ حزبِ اختلاف کے لیڈر ایوان سے بالاتر ہیں اور کسی بھی موضوع پر بول سکتے ہیں، لیکن ایسا کوئی خصوصی اختیار کسی کے پاس نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ چاہے وزیراعظم ہوں، وزراء ہوں، اپوزیشن لیڈر ہوں یا دیگر اراکین، سب کو قواعد کے مطابق ہی بولنے کا حق حاصل ہے۔ یہ قوانین خود ایوان نے بنائے ہیں اور مجھے وراثت میں ملے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "میں نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ لوک سبھا میں ہر رکن ضابطے کے مطابق اپنے خیالات کا اظہار کرے، اس کے لیے سب کو وقت دینے کی کوشش کی ہے تاکہ ایوان کی کارروائی غیر جانبداری، نظم و ضبط، توازن اور قوانین کے ساتھ چلائی جا سکے۔"
اسپیکر نے کہا کہ "ہر رکنِ پارلیمنٹ لاکھوں شہریوں کا مینڈیٹ لے کر آتا ہے۔ میں نے ہمیشہ یہ کوشش کی کہ ایوان کے اندر ہر رکن قواعد اور ضوابط کے تحت اپنے خیالات کا اظہار کرے۔ میں نے تمام اراکینِ پارلیمنٹ کو وقت دینے کی کوشش کی۔ میں نے ان اراکینِ پارلیمنٹ کو کارروائی میں حصہ لینے کی ترغیب دی جو ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں یا نہیں بولتے ہیں۔ میں نے ایسے اراکین کو اپنے چیمبر میں بلا کر ان سے بات رکھنے کی اپیل کی۔ ایوان میں بولنے سے ایوان مضبوط ہوتا ہے۔ یہ ایوان خیالات اور بحث و مباحثے کا فورم رہا ہے۔ ہماری پارلیمانی روایات میں اتفاق اور اختلافِ رائے کی عظیم روایت رہی ہے۔"
انہوں نے اپوزیشن اراکین کے بولتے وقت مائیک بند کیے جانے کے الزامات پر کہا کہ اسپیکر کے پاس مائیک آن یا آف کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔ اپوزیشن کے جو رہنما پینل آف چیئرمین میں شامل ہوتے ہیں، انہیں اس بات کا بخوبی علم ہے۔
مسٹر برلا نے کہا کہ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ ایوان کے وقاراور ساکھ میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے۔
مسٹر برلا نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ لوک سبھا میں ہر رکن قواعد کے مطابق اپنے خیالات کا اظہار کرے، اور اس کے لیے سب کو وقت دینے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ "میں نے ہمیشہ یہ کوشش کی کہ ایوان کی کارروائی غیر جانبداری، نظم و ضبط، توازن اور قوانین کے ساتھ چلائی جائے۔"
انہوں نے بتایا کہ ایوان میں گزشتہ دو دنوں میں 12 گھنٹے سے زیادہ بحث ہوئی، تاکہ تمام اراکین کے خیالات اور خدشات سامنے آ سکیں۔ انہوں نے مزید کہا "یہ ایوان 140 کروڑ لوگوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہاں ہر رکنِ پارلیمنٹ اپنی عوام کے مسائل اور توقعات لے کر آتا ہے۔ میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ ہر رکنِ پارلیمنٹ قواعد کے تحت اپنی بات رکھے۔ میں ہر اس رکن کو بولنے کے لیے ترغیب دینے کی کوشش کرتا رہا جو کم بولتے تھے، کیونکہ بولنے سے جمہوریت کا عزم مضبوط ہوتا ہے۔"