کینٹکی، 12 مارچ (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ جیت چکے،لیکن جلد نکلنا نہیں چاہتے ، اب جب تک مقصد پورانہیں ہوتا ایران سے واپس نہیں آئیں گے۔
تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست کینٹکی میں مڈٹرم الیکشن کی ایک بڑی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ایران نے مشرق وسطیٰ پر قبضے اور اسرائل کو فارغ کرنےکی تیاری کرلی تھی لیکن امریکی فوج نےایسا حملہ کیا ہے کہ ان کو کچھ سمجھ نہیں آرہا۔
امریکی صدر نے اعلان کیا ایران کے خلاف جنگ جیت چکے لیکن جلدی نکلنا نہیں چاہتے، ہم کو کوئی جلدی نہیں،ایران میں اپنا کام مکمل کریں گے، امریکہ کو ایران میں اپنا مقصد ہر حال میں حاصل کرنا ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 11 دنوں میں امریکی فوجی کارروائیوں نے ایران کی عسکری قوت کو مفلوج کر دیا ہے، ایرانی بحریہ کو سمندر میں ڈبو دیا اور آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو ایک ہی رات میں ختم کر دیا، اس کارروائی میں بارودی سرنگیں بچھانے والے 31 ایرانی جہاز تباہ کیے گئے۔
انھوں نے مزید کہا ایران کے پاس اب نہ تو فضائیہ بچی ہے اور نہ ہی ریڈار سسٹم کام کر رہے ہیں، ایران کی میزائل صلاحیت کا 90 فیصد اور ڈرونز کا 85 فیصد حصہ تباہ کر دیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی ایٹمی صلاحیت کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ہے اور اگر وہ اوباما دور کی ڈیل ختم نہ کرتے تو آج دنیا کو ایٹمی لیس ایران کا سامنا ہوتا، ایران میں "کام ادھورا چھوڑ کر" نہیں نکلیں گے۔
امریکی صدر نے "آپریشن ایپک فیوری" (Operation Epic Fury) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے پہلے ہی گھنٹے میں برتری حاصل کر لی تھی:
صدر نے یقین دہانی کرائی کہ ایرانی خطرہ ختم ہوتے ہی تیل کی قیمتیں مزید گریں گی۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے تیل کی فراوانی کو یقینی بنائے گی۔
ریلی سے خطاب میں ٹرمپ نے الزام لگایا کہ ایران نے مشرقِ وسطیٰ پر قبضے اور اسرائیل کو ختم کرنے کی تیاری کر رکھی تھی اور کچھ لوگ گزشتہ 47 سال سے امریکیوں کو قتل کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج نے ایسا کاری ضرب لگائی ہے کہ اب ان کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔