لکھنؤ:27 فروری(یواین آئی) شراب گھپلہ کیس میں دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ کی جانب سے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اورنائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کو سی بی آئی کیس میں بری کیے جانے کے بعد سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے اسے بی جے پی کے لیے 'اخلاقی سزائے موت' قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج دہلی کے مقبول ترین سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے ساتھ سچ اور انصاف دونوں کھڑے ہیں۔ جمعہ کو سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے ردعمل میں اکھلیش یادو نے کہا کہ الزام کبھی اتنا بڑا نہیں ہو سکتا کہ وہ سچ کو ڈھانپ لے۔ آج ہر ایماندار شخص اطمینان کی سانس لے گا اور بی جے پی کے حامی شرمندگی محسوس کر رہے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے دہلی کے باشندوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ شنکراچاریہ، سادھوؤں، سنتوں اور سنیاسیوں تک پر جھوٹے الزامات لگانے کا گناہ کرتے ہیں، وہ کسی بھی حکومت، جماعت یا فرد کو بدنام کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، جس کا تصور کوئی شریف انسان نہیں کر سکتا۔
اکھلیش یادو نے کہا کہ آزادی سے پہلے موجودہ اقتدار کے جو ساتھی ملک کے دشمنوں کے ساتھ ملے ہوئے تھے اور مجاہدین آزادی کے خلاف مخبری کرتے رہے، وہی لوگ آج دوسروں پر الزام تراشی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سامراجی طاقتوں کے سائے میں پلنے والے اور فریب کی سیاست کرنے والے ایسے نظریاتی لوگ آج کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے ہیں۔