اترپردیش میں بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سپریمو مایاوتی کے اکلوتے ممبراسمبلی اوما شنکرسنگھ کی رہائش گاہ پر محکمہ انکم ٹیکس نے چھاپہ مارا ہے۔ اطلاع کے مطابق اس کارروائی کے دوران پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ تین درجن سے زائد افسران جائے وقوعہ پر موجود ہیں اورتحقیقات میں مصروف ہیں۔ صبح سے جاری چھاپے کی وجہ سے رہائش گاہ کے باہرافراتفری کا ماحول ہے۔ سیکورٹی وجوہات کی بنا پرعلاقے میں پولیس فورس کو تعینات کیا گیا ہے اور لوگوں پرنظر رکھی جارہی ہے۔ فی الحال محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے کوئی سرکاری بیان نہیں آیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق محکمہ انکم ٹیکس کی ٹیم صبح تقریباً 7 بجے بلیا کی رسڑا اسمبلی سیٹ سے بی ایس پی ایم ایل اے کی لکھنؤ واقع رہائش گاہ پر پہنچی اوراحاطے کو گھیرے میں لے کراندر باہرآمدو رفت محدود کردی۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ محکمہ انکم ٹیکس بعض مالیاتی لین دین اور جائیداد سے متعلق دستاویزات کی چھان بین کررہا ہے۔ چھاپے کے دوران اہلکاروں نے گھرکے اندر موجود فائلوں، الیکٹرانک آلات اور دیگر ریکارڈ کی تلاش شروع کی۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ آپریشن کئی گھنٹے جاری رہنے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ ایم ایل اے اوما شنکرسنگھ کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں اوران کے دو آپریشن ہوچکے ہیں۔ وہ لکھنؤ کے گومتی نگر واقع اپنی رہائش گاہ پرآئیسولیشن میں رہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے گھرمیں ہی دفتربنارکھا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ بی ایس پی ایم ایل اے اوما شنکر کے گھر پر چھاپے کی کارروائی میں 50 سے زیادہ افسران اور سیکورٹی اہلکار شامل ہیں۔ چھاپے کے دوران ڈاکٹروں اور نرسوں کو بھی اندر آنے اور جانے سے روک دیا گیا ہے۔
اوما شنکر سنگھ پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی) کے بڑے ٹھیکیدار بھی ہیں۔ وہ اتر پردیش میں بی ایس پی کے واحد ممبر اسمبلی ہیں۔ حال ہی میں مقامی وزیر دیا شنکر سنگھ کے ساتھ ان کی زبانی جنگ نے بلیا سمیت پوری ریاست میں سرخیاں بٹوری تھیں۔ یہ پورا معاملہ ایک پل کے افتتاح سے متعلق ہے جس میں محکمہ انکٹ ٹیکس کی جانب سے کارروائی جاری ہے۔