پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو آنکھوں کے علاج کے لیے سخت سیکورٹی کے درمیان اڈیالہ جیل سے پی آئی ایم ایس اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کی بینائی بہتر کرنے کے لیے ضروری انجکشن لگائے اور بعد میں انہیں جیل واپس بھیج دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : امراض میں مبتلا عمران خان کی مدد کے لیے 14 سابق کپتانوں نے اٹھائی آواز، ہمدردوں میں کپل دیو اور سنیل گواسکر بھی شامل
پی آئی ایم ایس اسپتال کی جانب جاری پریس ریلیز کے مطابق عمران خان کو مقررہ فالو اپ کے لیے اڈیالہ جیل سے صبح کے وقت اسپتال لایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی متاثرہ آنکھ میں دوسرا اینٹی وی ای جی ایف انٹرا وٹریئل انجکشن لگایا، جس کا مقصد ان کی بینائی کی بحالی میں مدد کرنا ہے۔ ساتھ ہی اسپتال نے بتایا کہ ان کی آنکھ میں انجکشن لگانے کے عمل سے قبل ماہرین کے ایک بورڈ نے ان کی جانچ کی، جس میں ایک ماہر امراض قلب (جنہوں نے ایکو کارڈیوگرافی اور ای سی جی بھی کی) اور فزیشین شامل تھے۔ معائنے میں انہیں طبی طور پر مستحکم پایا گیا۔
پی آئی ایم ایس انتظامیہ کے مطابق یہ یہ عمل پی آئی ایم ایس اور شفا ئی ہاسپٹل کے کنسلٹنٹ ماہر امراض چسم اور کنسلٹنٹ وٹریوریٹینل سرجن کی نگرانی میں انجام دیا گیا۔ یہ عمل ڈے کیئر سرجری کے تحت مکمل کیا گیا ہے۔ اسپتال کے مطابق طبی عمل کے دوران اور بعد میں ان کی حالت مستحکم رہی۔ علاج مکمل ہونے کے بعد انہیں فالو اپ مشورہ، دیکھ بھال کی ہدایت اور میڈیکل دستاویزات کے ساتھ چھٹی دی دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : ’عمران خان کے بارے میں سن کر دکھ ہوا‘، پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی بگڑتی صحت پر محمد اظہرالدین کا بھی اظہارِ تشویش
ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر پاکستانی میڈیا کے حوالے سے شائع خبر کے مطابق عمران خان کو 15 گاڑیوں کے قافلے میں جیل سے اسپتال لے جایا گیا، جس میں کالی رنگ کی کاریں شامل تھیں اور 3 سگنل جیمر بھی تعینات کیے گئے تھے۔ سیکورٹی کے سخت انتظام کے درمیان انہیں اسپتال پہنچایا گیا اور علاج کے بعد واپس اڈیالہ جیل روانہ کر دیا گیا۔