Jadid Khabar

جے رام رمیش کا پیوش گوئل پر حملہ، ہند-امریکہ تجارتی معاہدے پر کسانوں کو گمراہ کرنے کا الزام

Thumb

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے امریکی ہند تجارتی معاہدے کے اثرات کو لے کر مرکزی وزیر تجارت پیوش گوئل پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک خبر کا لنک شیئر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وزیر تجارت مسلسل اور دانستہ طور پر ملک کو گمراہ کر رہے ہیں، جبکہ اس معاہدے سے مختلف ریاستوں کے لاکھوں کسانوں کی روزی روٹی متاثر ہو سکتی ہے۔

جے رام رمیش نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیر تجارت بار بار یہ تاثر دے رہے ہیں کہ امریکی معاہدے سے کسانوں کو کوئی نقصان نہیں ہوگا، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر کپاس کے کاشتکار اس فیصلے سے براہ راست متاثر ہوں گے اور ان کی معاشی حالت مزید کمزور ہو سکتی ہے۔
جے رام رمیش نے پوسٹ میں ’دی ہندو‘ کے جس خبر کا لنک شیئر کیا ہے اس میں بتایا گیا کہ وزیر تجارت پیوش گوئل نے کہا تھا کہ اگر ہندوستان امریکہ سے خام کپاس خرید کر یہاں اس کی پروسیسنگ کرے اور تیار کپڑا دوبارہ امریکہ برآمد کرے تو ہندوستان کو بھی بنگلہ دیش کی طرح زیرو جوابی ٹیرف کی سہولت مل سکتی ہے۔ اس بیان کے بعد مختلف کسان تنظیموں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
خبر کے مطابق سنیوکت کسان مورچہ اور دیگر تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ سے خام کپاس زیرو ٹیرف پر درآمد کی گئی تو اس سے گھریلو بازار میں قیمتیں گر سکتی ہیں اور کپاس اگانے والے کسان شدید بحران کا شکار ہو جائیں گے۔ کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی کم از کم امدادی قیمت کسانوں کی لاگت کے مطابق نہیں ہے اور ایسے میں سستی درآمدات سے مقامی پیداوار متاثر ہوگی۔
جے رام رمیش نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ کسانوں کے مفادات کا تحفظ کرے اور ایسے کسی بھی تجارتی قدم سے گریز کرے جس سے دیہی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت معاہدے کی اصل شرائط عوام کے سامنے صاف طور پر پیش نہیں کر رہی اور کسانوں کو حقیقت سے دور رکھا جا رہا ہے۔