Jadid Khabar

سعودی عرب سے 120 دن بعد پہنچی جھارکھنڈ کے نوجوان کی لاش، اہل خانہ کا لینے سے انکار

Thumb

گزشتہ سال اکتوبر میں جھارکھنڈ کے گریڈیہہ ضلع کے رہنے والے وجے کمار مہتو کی سعودی عرب کے جدہ میں موت ہو گئی تھی۔ تقریباً 120 دنوں بعد وجے کی لاش ہندوستان لائی گئی۔ حالانکہ اہل خانہ نے اس کی لاش لینے سے منع کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کمپنی کی جانب سے معاوضے کے متعلق کوئی واضح جواب نہیں ملا ہے۔ متوفی جدہ میں ایک ٹرانسمیشن لائن پروجیکٹ پر کام کرتے تھے۔ گزشتہ سال 15 اکتوبر کو پولیس اور ایک گینگ کے درمیان ہوئی گولی باری میں وہ مبینہ طور پر کراس فائر میں پھنس گئے تھے۔ اس میں وہ بری طرح زخمی ہو گئے تھے اور بعد میں ان کی موت ہو گئی تھی۔

ہفتہ (14 فروری) کو وجے کی لاش ممبئی کے راستے رانچی ایئرپورٹ پہنچی، جسے ریمس کے مردہ خانے میں رکھا گیا ہے لیکن اہل خانہ نے لاش لینے سے انکار کر دیا ہے۔ متوفی کے سالے رام پرساد مہتو کا کہنا ہے کہ جب تک کمپنی تحریری طور پر معاوضے کی بات واضح نہیں کرے گی تب تک وہ لاش نہیں لیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ وجے سے بہت پیار کرتے ہیں، لیکن ان کے پیچھے ان کی اہلیہ، 5 اور 3 سال کے 2 بیٹے اور بزرگ والدین ہیں، جن کا مستقبل بھی دیکھنا ضروری ہے۔
اہل خانہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ لاش تبھی لیں گے جب کمپنی معاوضے کے متعلق تحریری طور پر یقین دہانی کرائے گی۔ متوفی کے سالے رام پرساد مہتو نے کہا کہ وہ واضح طور پر نہیں بتا رہے ہیں کہ کیا معاوضہ دیا جائے گا۔ اس یقین دہانی کے بغیر ہم لاش نہیں لیں گے۔ دوسری جانب جھارکھنڈ حکومت نے وجے کے اہل خانہ کو فوری طور پر 5 لاکھ روپے کی مالی مدد دینے کی پیشکش کی ہے۔ لیکن خاندان چاہتا ہے کہ آجر (ایمپلائر) بھی اپنی ذمہ داری طے کرے۔
ریاستی مائیگرنٹ کنٹرول سیل کی سربراہ شیکھا لاکڑا نے بتایا کہ معاملہ سعودی عرب کی عدالت میں چل رہا ہے۔ حتمی معاوضہ عدالت کے فیصلے پر منحصر ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد ہی طے ہو پائے گا کہ متاثرہ خاندان کو کتنا معاوضہ ملے گا۔ فی الحال مقامی انتظامیہ اہل خانہ سے رابطے میں ہے، لیکن خاندان معاوضے پر واضح یقین دہانی ملنے تک لاش لینے کو تیار نہیں ہے۔ شیکھا لاکڑا کے مطابق سفارت خانے سے جانکاری ملنے کے بعد محکمہ نے لاش کو واپس بھیجنے میں مدد کی، لیکن ریاست کا کردار زیادہ تر غیر ملکی آجروں اور غیر ملکی دائرہ اختیار سے متعلق معاملات میں کوآرڈینیشن تک ہی محدود ہے۔