’ایپسٹین فائلز‘ معاملہ پر کانگریس لگاتار مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کو ہدف تنقید بنا رہی ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر رہی ہے۔ خاص طور سے ہردیپ سنگھ پوری کے جوابی حملوں اور ان کے بیانات کو سامنے رکھ کر کانگریس کے سرکردہ لیڈران ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کئی بار کر چکے ہیں۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور پارٹی ترجمان پون کھیڑا نے آج پریس کانفرنس میں ایک بار پھر ہردیپ سنگھ پوری سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا، اور ان کے کئی بیانات کو جھوٹ پر مبنی قرار دیا۔
پون کھیڑا نے کہا کہ ’’گزشتہ کچھ وقت سے ایپسٹین فائلز کو لے کر پوری دنیا میں بحث جاری ہے۔ اس معاملہ میں 7 ممالک کے لیڈران نے استعفے دیے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ نریندر مودی اور ہردیپ سنگھ پوری کا نام بھی اس میں شامل ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ہردیپ سنگھ پوری نے اس بارے میں منھ کھولا، کچھ انٹرویوز دیے جن میں جم کر جھوٹ بولا۔ یہ وہی ہردیپ سنگھ پوری ہیں جنھیں بغیر رکن پارلیمنٹ بنے ہی نریندر مودی نے وزیر بنا دیا۔‘‘
ہردیپ سنگھ پوری کے کچھ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے پون کھیڑا نے کہا کہ ’’ہردیپ سنگھ پوری نے کہا، جب وہ پہلی بار ایپسٹین سے ملنے جا رہے تھے تو انھیں پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ کہاں جا رہے ہیں، کیونکہ انھیں کہا گیا تھا کہ ڈرائیور انھیں چھوڑ دے گا۔ یہ کتنا شرمناک ہے کہ ایسی بات ایک خارجہ سروس کا افسر کہہ رہا ہے، جو کہ امریکہ میں سفیر تھا۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں ’’ہردیپ سنگھ پوری نے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ ایپسٹین سے ملنے جاتے وقت اچھا محسوس نہیں کیا تو گوگل کیا کہ کہاں جا رہا ہوں، اور پھر آپس میں پوچھا کہ کیا ایپسٹین سے ملنے جانا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ سب ہوا تو کیا ہردیپ سنگھ پوری بچے تھے؟‘‘ پون کھیڑا نے مزید کہا کہ ’’ہردیپ پوری کہتے ہیں– ہم لوگوں میں سے کچھ کو ایپسٹین کے کریمنل ریکارڈ ہونے پر شبہ تھا۔ جبکہ 2008 میں ہی ایپسٹین نے عدالت میں اپنا گناہ قبول کر لیا تھا، اسے سزا ہو گئی تھی۔ ایپسٹین کے گناہ قبول کرنے کے بعد بھی 2014 میں ہمارے وزیر ہردیپ پوری کے من میں شبہ تھا۔ یہ وزیر ہیں، یہ ان کی اخلاقیات کا معیار ہے۔ ایسی صورت میں ہردیپ پوری کو کس طرح درست ٹھہرایا جا سکتا ہے؟‘‘
پون کھیڑا بات کو اتنے پر ہی ختم نہیں کرتے ہیں۔ ہردیپ پوری کی کئی باتوں کو وہ جھوٹ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھوں نے میڈیا اہلکاروں سے کہا کہ ’’ہردیپ پوری نے ایک انٹرویو میں کہا– میری ایپسٹین سے زیادہ بات نہیں ہوئی۔ ایک دو ای میل ہوئے اور تین چار بار ملاقات ہوئی۔ یہ سراسر جھوٹ ہے۔ ہردیپ پوری نے مزید ایک انٹرویو میں کہا– میں نے کبھی اپوائنٹمنٹ نہیں مانگا۔ یہ بات بھی جھوٹ ہے، کیونکہ ہردیپ پوری خود پوچھتے تھے ’جیف، کیا میں آپ سے ملاقات کر سکتا ہوں؟‘، ’جیف، کیا آپ شہر میں ہیں؟‘ جب ہردیپ پوری نے کبھی اپوائنٹمنٹ نہیں مانگا، تو پھر یہ سب کیا تھا۔ کیا آپ پر مودی کا دباؤ تھا کہ جائیے اور ایپسٹین سے ملیے۔‘‘ کانگریس لیڈر نے یہ بھی کہا کہ ’’16-2014 کے درمیان ہندوستان کے 3 سفیر امریکہ میں رہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کس کی ہدایت پر ریٹائر ہو چکے ہردیپ سنگھ پوری کو ایپسٹین سے ملنے بھیجا جاتا تھا؟‘‘