راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے اوڈیشہ میں پیش آئے ایک واقعے کو اٹھاتے ہوئے ذات پات کی بنیاد پر امتیاز کے خلاف سخت آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی میں جب ملک سماجی ترقی اور اصلاحات کے بڑے دعوے کر رہا ہے، ایسے میں یہ انتہائی افسوس ناک ہے کہ اوڈیشہ میں ایک آنگن واڑی مرکز پر تعینات دلت خاتون ہیلپر کی جانب سے تیار کردہ کھانا ایک مخصوص برادری کے افراد نے اپنے بچوں کو دینے سے انکار کر دیا۔ ان کے مطابق گزشتہ تین ماہ سے اس آنگن واڑی مرکز کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے، جس کا براہ راست اثر بچوں کی غذائیت اور ذہنی و جسمانی نشوونما پر پڑ رہا ہے۔
ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ آنگن واڑی مراکز ملک میں بچوں کی پرورش اور ابتدائی تعلیم کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں، لیکن اگر وہاں بھی ذات پات کی بنیاد پر تفریق ہو تو یہ نہ صرف سماجی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ آئینی اقدار کے بھی منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعات آئین کے آرٹیکل 21 اے کی خلاف ورزی ہیں، جو بچوں کو تعلیم کا حق دیتا ہے، اور آرٹیکل 47 کی روح کے بھی برخلاف ہیں، جس کے تحت ریاست پر غذائیت کی سطح بلند کرنے اور عوامی صحت بہتر بنانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ پر پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کا احتجاج، وزیر اعظم مودی پر کسانوں سے دھوکہ دہی کا الزام
انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے واقعات کو محض سماجی مسئلہ نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ یہ کام کی جگہ پر ذات پات کی بنیاد پر امتیاز کی مثالیں بھی ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ حالیہ برسوں میں ملک کے مختلف حصوں سے اس نوعیت کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں، جن میں مدھیہ پردیش میں ایک قبائلی مزدور کے ساتھ غیر انسانی سلوک، گجرات میں ایک دلت سرکاری ملازم کی خودکشی اور چندی گڑھ میں ایک پولیس افسر کی موت کے بعد ادارہ جاتی امتیاز کے الزامات شامل ہیں۔
قائد حزب اختلاف نے زور دے کر کہا کہ کسی بھی ملازم کے ساتھ ذات پات کی بنیاد پر امتیاز آئین کی صریح خلاف ورزی اور قابل سزا جرم ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسے معاملات میں وقت مقررہ کے اندر سخت کارروائی کی جائے اور جہاں سنگین خلاف ورزی ثابت ہو وہاں ذمہ داری بھی طے کی جائے تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔