اجیت پوار کے طیارہ حادثہ کے متعلق اٹھ رہے کئی طرح کے سوالوں کے درمیان ان کے بھتیجے روہت پوار نے بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے دہلی پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’میرے چچا اجیت دادا کی موت طیارہ حادثے میں ہو گئی تھی، بہت سی باتیں کہی جا رہی ہیں۔ ہمیں کچھ شک ہے اس لیے ہم نے ایک پریزنٹیشن تیار کیا ہے۔‘‘ اس سے قبل انہوں نے منگل (10 فروری) کو ممبئی میں پریس کانفرنس کر ماہر ایجنسیوں کے ذریعہ اس حادثے کی تفصیلی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
روہت پوار نے کہا تھا کہ ’’پورا مہاراشٹر سوال کر رہا ہے کہ اجیت دادا کا ’طیارہ حادثہ‘ ایک حادثہ تھا یا کوئی سازش؟ میں آپ سب کے ساتھ وہی شیئر کر رہا ہوں جو میں محسوس کر رہا ہوں۔ کچھ لوگ اب بھی دادا کے کہیں سے آنے کی امید کر رہے ہیں، کچھ کہتے ہیں کہ ایئرکرافٹ میں 6 لوگ تھے، وہ اجیت دادا کی باڈی نہیں تھی، یہ اب بھی ایک برے خواب جیسا لگتا ہے۔‘‘
اجیت پوار کے بھتیجے روہت پوار کا کہنا تھا کہ ’’اجیت پوار کا طیارہ حادثہ سازش کا حصہ ہو سکتا ہے۔ ہم نے اجیت پوار کے حادثے کے بارے میں کچھ چیزوں کی جانچ بھی کی۔ ایک کتاب میں لکھا ہے کہ اگر آپ کسی انسان کو مارنا چاہتے ہیں تو سب سے آسان طریقہ ہے کہ اس انسان کے ڈرائیور کو مار دیا جائے۔ حادثے سے ایک روز قبل دادا کو شام کو ممبئی سے پونے آنا تھا، اس وقت قافلہ بھی چل پڑا تھا۔ لیکن دادا کار سے کیوں نہیں گئے؟ اجیت دادا کو ایک بڑے لیڈر سے ملنا تھا۔‘
روہت پوار نے پریس کانفرنس کے دوران طیارہ کی کمان سنبھال رہے کیپٹن سمت کپور کے گزشتہ ریکارڈ پر سوال اٹھایا اور ماضی میں شراب نوشی کی وجہ سے 3 سال کی معطلی کا حوالہ بھی دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سی آئی ڈی کے پاس اس حادثے کی مکمل تحقیقات کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مختلف ماہر ایجنسیوں کے ذریعے جامع تحقیقات کرائے جانے کا مطالبہ بھی کیا، جن میں ہندوستانی ایجنسیوں کے علاوہ نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ، بیورو آف سول ایوی ایشن سیکورٹی انویسٹی گیشن اینڈ اینالیسس اور برطانیہ کی ایئر ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن برانچ (اے اے آئی بی) شامل ہوں۔
روہت پوار نے مزید الزام عائد کیا تھا کہ حادثہ کا شکار لیرجیٹ طیارہ کی مالک کمپنی ’وی ایس آر‘ کا ڈی جی سی اے کے افسران پر کافی اثر و رسوخ ہے اور وہ کچھ بھی کر کے بچ سکتی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ وی ایس آر کمپنی کا ایک طیارہ کے 2023 میں ہوئے حادثے کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ پہلے پیش کر دی گئی ہے۔ اس کے باوجود وی ایس آر کمپنی کے طیارے اب بھی اعلیٰ سطح کے لیڈران کے ذریعہ استعمال کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ کمپنی کا آپریٹگ لائسنس کبھی کیوں نہیں منسوخ کیا گیا؟ بکنگ کرنے والی کمپنی ایرو، وی ایس آر کمپنی اور پائلٹ سمت کپور پر سنگین شبہ ہے۔ ہمیں نہیں لگتا ہے کہ یہ محض ایک حادثہ تھا، اس میں سازش کی بو ہے۔
روہت پوار نے حادثہ سے پہلے کے واقعہ کے متعلق بھی کئی سوال اٹھائے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا آخری لمحات سے قبل طیارہ کا ٹرانسپونڈر جان بوجھ کر بند کر دیا گیا تھا؟ روہت پوار کے مطابق اصل پائلٹ ساحل مدان اور یش مبینہ طور پر ٹریفک کی وجہ سے تاخیر سے پہنچے تھے۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ سمت کپور اور شامبھوی پاٹھک ایئرپورٹ تک کیسے پہنچے؟ کیا وہ آس پاس ہی رہتے تھے؟