نئی دہلی 5 جنوری (جدید خبر بیورو )
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی طرف سے ’’کثیر لسانی ہندوستان میں اردو زبان و تہذیب‘‘کے عنوان سے منعقد ہونے والی سہ روزہ عالمی اردو کانفرنس کے سلسلے میں آج قومی اردو کونسل کے صدر دفتر میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔صحافیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے عالمی اردو کانفرنس کی تفصیلات پر اظہارِ خیال کیا اور کہا کہ اس سال کی عالمی کانفرنس کا موضوع ’’کثیر لسانی ہندوستان میں اردو زبان و تہذیب‘‘کے اعتبار سے منفرد بھی۔ اس کے ذریعے ہمیں قومی تعلیمی پالیسی 2020کےتناظر میں کثیر لسانی ہندوستان کی صورتِ حال کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی اور ہندوستان کی تعمیر و ترقی میں دیگر زبانوں کے ساتھ اردو زبان کی خدمات سے واقف ہونے کا بھی موقع ملے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ 6 تا 8 فروری کو تین دنوں تک چلنے والی اس کانفرنس میں افتتاحی اور تکنیکی سیشنز کے علاوہ مختلف ثقافتی تقاریب کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ تکنیکی سیشنز میں جہاں مختلف موضوعات پر دانشوران اپنے خیالات کا اظہار کریں گے وہیں مشاعرہ، شامِ غزل اور ہیومرباز جیسے ثقافتی پروگرام سے بھی لطف اندوز ہو سکیں گے۔ ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ عالمی اردو کانفرنس کے انعقاد کا ایک مقصد قومی اور بین الاقوامی سطح پر اردو زبان و تہذیب کی نمائندگی کو یقینی بنانا ہے۔ ایک اشتہار کے ذریعے نوجوان مقالہ نگاروں کو مختلف ذیلی عناوین کے تحت مقالہ لکھنے کی دعوت دی گئی تھی جس میں سے تین مقالے کانفرنس کے معیار و مزاج کے مطابق قرار پائے ہیں۔ ان تینوں نوجوان قلم کاروں کو بھی دعوت دی گئی ہے۔ اس کانفرنس میں شرکا کو مدعو کرتے ہوئے اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ ہندوستان کے تمام علاقوں کی نمائندگی ہو سکے۔ اسی طرح بزرگ ادیبوں اور دانشوروں کے ساتھ خواتین اور نئی نسل کے قلم کاروں کو بھی موقع مل سکے۔ اس کانفرنس میں ہندوستان کے علاوہ یوکے، سویڈن، فرانس، موریشس، جاپان، مصر اور قطر جیسے ممالک سے قریب 90 دانشوران شرکت کر رہے ہیں۔
اس موقعے پر ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے عالمی اردو کانفرنس سے متعلق صحافیوں کے مختلف سوالوں کے جوابات بھی دیے اور کہا کہ یہ کانفرنس کثیر لسانی ہندوستان میں اردو زبان و تہذیب کی نمائندگی کو یقینی بنانے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگی اور اردو زبان میں قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے وژن کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوگی۔