امریکہ اور ایران کے درمیان مجوزہ مذاکرات کی راہ بالآخر ہموار ہو گئی ہے۔ مذاکرات کے مکمل طور پر ختم ہونے کے دہانے پر پہنچنے کے باوجود، اب دونوں ممالک ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہیں۔ برطانوی اخبار ’دی گارجین‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ اہم میٹنگ اب جمعہ (6 فروری) کو عمان کی راجدھانی مسقط میں ہوگی، جبکہ اس سے قبل ترکیہ میں اس کے انعقاد کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کی دیر رات کہا کہ میٹنگ اب مسقط میں ہوگی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ ’’امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات جمعہ کی صبح تقریباً 10 بجے مسقط میں ہوں گے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے اس میٹنگ کے انعقاد کے لیے عمان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ امریکی افسران نے بھی تصدیق کی ہے کہ بات چیت ہوگی۔ یہ میٹنگ ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب علاقے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ امریکہ نے وہاں اپنی فوج کی موجودگی میں اضافہ کر دیا ہے اور ایران کو وارننگ دی ہے کہ اگر بات چیت ناکام رہی تو کارروائی ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ بدھ کو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ختم ہو جائیں گے۔ ایران نے واضح طور پر کہا تھا کہ وہ اپنے بیلیسٹک میزائلوں یا علاقے سے متعلق دوسرے مسائل پر بات نہیں کرے گا۔ جبکہ امریکہ چاہتا ہے کہ بات چیت کا دائرہ زیادہ بڑا ہو۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ بات چیت کے لیے تیارہ ہے، لیکن اس کے کچھ واضح مطالبات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات سے کوئی ٹھوس نتیجہ نکلنا ہے تو اس میں کچھ ضروری امور کو شامل کرنے ہوں گے۔ امریکی وزیر خارجہ نے ایران کے میزائل پروگرام، مسلح گروہوں کی حمایت، جوہری پروگرام اور اپنے شہریوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کا ذکر کیا۔
جب ایران کے موقف پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر کو فکرمند ہونا چاہیے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’’میں کہوں گا کہ انہیں بہت زیادہ فکرمند ہونا چاہیے۔‘‘ عرب اور مسلم ممالک نے وہائٹ ہاؤس سے اپیل کی کہ وہ بات چیت کو چھوڑے نہیں۔ اس کے بعد دونوں فریق پھر سے بات چیت کی میز پر لوٹنے کو تیار ہوئے۔ ایران کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا واحد ایجنڈا یہی ہوگا کہ اس کا جوہری پروگرام فوجی مقاصد کے لیے نہیں ہے۔ وہ اپنے ملک میں یورینیم کی افزودگی کا حق برقرار رکھنا چاہتا ہے اور اپنے یورینیم کو باہر بھیجنے سے انکار کرتا ہے۔ روس نے کہا ہے کہ یورینیم اپنے یہاں رکھنے کی اس کی تجویز اب بھی برقرار ہے۔