نئی دہلی، 5 فروری (یو این آئی) کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے زیرِ اقتدار ریاستوں میں عدم برداشت تیزی سے بڑھ رہی ہے ، بی جے پی اور آر ایس ایس نابرابری کو بڑھاوا دے رہے ہیں اورملک کی 40 فیصد دولت صرف ایک فیصد لوگوں کے پاس سمٹ کر رہ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گورنر مرکزی حکومت کے ایجنٹ بن کر کام کر رہے ہیں اور جن ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت ہے، وہاں عدم برداشت تیزی سے پھیل رہی ہے۔مسٹر کھڑگے نے جمعرات کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اتراکھنڈ کے ایک واقعے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 'اتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت نے ایک نوجوان 'محمد دیپک' کے خلاف معاملہ درج کیا۔ جو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے تحفظ کے لیے کھڑا ہوا تھا۔ اگر محافظ ہی ظالم بن جائے گا تو عام آدمی تحفظ کے لیے کہاں جائے گا۔جو شخص جھگڑا سلجھانے کے لیے جاتا ہے، بی جے پی کے لوگ اسی کو دھمکاتے اور مارتے ہیں۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ بی جے پی کے پاس برداشت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ غیر این ڈی اے حکومت والی ریاستوں میں راج بھون بی جے پی اور آر ایس ایس کے دفاتر بن گئے ہیں۔ گورنر مرکزی حکومت کے ایجنٹ کی طرح کام کر رہے ہیں۔ کرناٹک، تمل ناڈو اور کیرالہ میں ہر جگہ گورنروں نے کابینہ سے منظور شدہ خطابات سے انکار کیا اور بلوں کو روکنے جیسے اقدامات کیے۔
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے ذہن میں کبھی برابری کا تصور نہیں رہا ہے۔ ان کی سوچ امیروں کو اور امیر اور غریبوں کو مزید غریب بنانے کی ہے۔ انہوں نے عالمی عدم مساوات رپورٹ 2026 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے مطابق ہندوستان کی کل دولت کا 40 فیصد سرفہرست ایک فیصد لوگوں کے پاس سمٹ چکا ہے۔ آمدنی کی سطح پر بھی سرفہرست 10 فیصد لوگ 58 فیصد قومی آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔ جبکہ رپورٹ میں نچلے درجے کے 50 فیصد لوگوں کو صرف 15 فیصد پر ہی محدود کر دیا گیا ہے۔