Jadid Khabar

وارانسی کسی حکومت کی جاگیر نہیں: سنجے سنگھ

Thumb

لکھنؤ 29 جنوری (یواین آئی) منی کرنیکا گھاٹ معاملے میں وارانسی پولیس کی جانب سے بھیجے گئے نوٹس کے جواب میں عام آدمی پارٹی (عآپ) رہنما اور راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے کہا ہے کہ کاشی بابا وشوناتھ کی ہے، کسی حکومت کی جاگیر نہیں۔  

انہوں نے الزام لگایا کہ تعمیر کے نام پر منی کرنیکا گھاٹ پر موجود قدیم شیولنگوں، افسانوی وراثتوں اور ماتا اہلیابائی ہولکر کے مجسمے کو نقصان پہنچایا گیا، جو سناتن آستھا پر براہِ راست حملہ ہے۔  

جمعرات کو جاری ایک بیان میں سنجے سنگھ نے واضح کیا کہ ان کے 'ایکس' ہینڈل سے شیئر کیے گئے ویڈیوزاورحقائق موقع پر موجود لوگوں کے بیانات اور عینی شواہد پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منی کرنیکا گھاٹ، جسے موکش کی بھومی مانا جاتا ہے، وہاں وراثتی نوعیت کی محفوظ ساختوں کو توڑنا کسی بھی صورت میں ترقی نہیں کہلا سکتا۔  

انہوں نے سوال اٹھایا کہ توڑ پھوڑ کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی، جبکہ سچ سامنے لانے والوں پر ایف آئی آر درج کر دی جاتی ہے۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ اگر سچ دکھانا جرم ہے تو وہ یہ "جرم" بار بار کریں گے۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ حملہ آوروں جیسی ذہنیت آج اقتدار کے تحفظ میں دوبارہ لوٹ آئی ہے۔  

عام آدمی پارٹی نے اس ایف آئی آر کو اظہارِ رائے کی آزادی اور مذہبی عقیدے پر حملہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ منی کرنیکا گھاٹ پرہوئی توڑ پھوڑ کی غیر جانبدار عدالتی جانچ کرائی جائے، قصورواروں کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کی جائے، متاثرہ مذہبی ڈھانچوں کی ازسرِ نو تعمیر کرائی جائے اور سنجے سنگھ کے خلاف درج مقدمہ فوراً واپس لیا جائے۔