نئی دہلی، 15 جنوری (یو این آئی) لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے کہا ہے کہ آج دنیا کے سامنے جمہوری عمل کو آگے بڑھانے کے لیے جو چیلنجز درپیش ہیں، ان کا حل عوامی شراکت داری کے ذریعے کیا جانا چاہیے اور اس سلسلے میں دولتِ مشترکہ (کامن ویلتھ) ممالک کی پارلیمانوں کے اسپیکروں اورپریزائیڈنگ افسروں (سی ایس پی او سی) کے 28ویں اجلاس میں سنجیدہ غور و فکر کیا جانا چاہیے۔
مسٹر برلا نے جمعرات کے روز یہاں پارلیمنٹ ہاؤس میں واقع سمودھان سدن کے مرکزی ہال میں دولتِ مشترکہ ممالک کی پارلیمانوں کے اسپیکروں اورپریزائیڈینگ افسروں (سی ایس پی او سی) کے 28ویں اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا ایک غیر معمولی تکنیکی دور سے گزر رہی ہے اور جمہوریت کے سامنے درپیش چیلنجز کے حل کے لیے اس کانفرنس کے ذریعے گہرے غور و خوض کے بعد اہم فیصلے کیے جانے چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں جو فیصلے کیے جا رہے ہیں، وہ جمہوری چیلنجز کے حل کی سمت میں اہم ثابت ہو رہے ہیں۔ مسٹر مودی کی قیادت میں عوامی فلاح و بہبود کی اسکیمیں چلائی جا رہی ہیں اور جمہوریت کے ساتھ عوامی شمولیت کو اہمیت دی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں لوگوں کا جمہوریت پر اعتماد بڑھا ہے۔
اس سے قبل راجیہ سبھا کے ڈپبٹی چیئرمین ہری ونش نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کانفرنس میں شریک اراکین کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ سی ایس پی او سی کے اس پلیٹ فارم سے دولتِ مشترکہ کے مختلف ممالک کی پارلیمانوں کے جمہوری عمل سے متعلق معلومات ایک دوسرے کو حاصل ہوں گی۔ دولتِ مشترکہ پارلیمانی تنظیم کی چیئرپرسن ڈاکٹر کرسٹوفر کلیلا نے کہا کہ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور اسے جمہوریت کی ماں بھی کہا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دولتِ مشترکہ ممالک کے سامنے جمہوری عمل کو آگے بڑھانے سے متعلق جو چیلنجز ہیں، انہیں امید ہے کہ یہاں ریکارڈ تعداد میں موجود اراکین ان تمام امور پر سنجیدگی اور تخلیقی انداز میں غور کریں گے اور پارلیمانی شراکت داری کو مزید مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔
یو این آئی۔ ایس اے۔ایف اے