تیانجن/نئی دہلی، یکم ستمبر (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کو ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے تمام رکن ممالک کو اس معاملے پر دوہرا معیار ترک کرنا ہوگا اور انسانیت کے خلاف اس مشترکہ چیلنج کا متحد ہوکر مقابلہ کرنے کی اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔
مسٹر مودی نے یہاں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہان مملکت کے 25ویں سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی کے معاملے پرسختی سے ہندوستان کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی، امن اور استحکام کسی بھی ملک کی ترقی کی بنیاد ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی اس راستے میں بڑے چیلنجز ہیں۔
انہوں نے کہا ’’دہشت گردی صرف کسی ملک کی سلامتی کے لیے ہی نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک مشترکہ چیلنج ہے۔ کوئی بھی ملک، کوئی معاشرہ، کوئی بھی شہری اس سے خود کو محفوظ نہیں سمجھ سکتا۔ اس لیے ہندوستان نے دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں اتحاد پر زور دیا ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ ہندوستان کو گزشتہ چار دہائیوں سے بے رحم دہشت گردی کا سامنا ہے۔ کنتی ہی ماؤں نے اپنے بچوں کو کھویا اور کتنے ہی بچے یتیم ہوئے۔ پہلگام دہشت گردانہ حملے کو دہشت گردی کا مکروہ چہرہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ہم نے پہلگام میں دہشت گردی کی کافی مکروہ شکل دیکھی۔ دکھ کی اس گھڑی میں جو دوست ممالک ہمارے ساتھ کھڑے رہے میں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یہ حملہ نہ صرف ہندوستان کی روح پر بلکہ انسانیت پر یقین رکھنے والے ہر ملک، ہر شخص کے لیے کھلا چیلنج تھا۔
انہوں نے دہشت گردی کی حمایت کرنے والے ممالک کا نام لیے بغیر ان ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی صورتحال میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا کچھ ممالک کی جانب سے دہشت گردی کی کھلی حمایت ہمارے لیے قابل قبول ہوسکتی ہے؟
مسٹر مودی نے دہشت گردی کے معاملے پر دوہرا معیار اپنانے والے ممالک پر بھی تنقید کی اور کہا کہ دہشت گردی کی مخالفت کرنا سبھی کی ذمہ داری ہے اور اس معاملے پر دوہرا معیار قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں واضح اور یک آواز کہنا ہے کہ دہشت گردی پر کوئی دوہرا معیار قابل قبول نہیں ہوگا۔ہمیں دہشت گردی کے خلاف ہر رنگ و روپ میں مل کر مقابلہ کرنا ہے، یہ انسانیت کے تئیں ہمارا فرض ہے۔
دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف ہندوستان کی مہم کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا ’’ہندوستان نے دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں اتحاد پر زور دیا ہے... ہندوستان نے ایک مشترکہ اطلاعاتی مہم کی قیادت کرتے ہوئے القاعدہ اور اس سے وابستہ دہشت گرد تنظیموں سے لڑنے کی پہل کی۔ ہم نے بنیاد پرستی کے خلاف تامل میل میں اضافے اور ملک کر قدم اٹھانے کی بھی تجویز رکھی۔ ہم نے دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف آواز اٹھائی۔ میں آپ کے تعاون کے تئیں اظہار تشکر کرتا ہوں‘‘۔