Jadid Khabar

مسجدوں کے خلاف اعلان جنگ

Thumb

اترپردیش کے سہارنپور ضلع میں 100 سال پرانی مسجد کی ظالمانہ شہادت کے بعد اب میرٹھ اور مرادآباد کی مسجدوں پر بھی انہدام کی تلوار لٹک رہی ہے۔ ایک شرپسند وکیل رام کمار شرما نے میرٹھ کی تاریخی شاہی جامع مسجد کے نیچے بودھ مٹھ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے انتظامیہ زیرزمین کھدائی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ تاریخی مسجد ایک ہزار سال پرانی ہے۔ ادھر مرادآباد میں قومی شاہراہ پر واقع مسجد مصطفی کو بھی نوٹس جاری کرکے ملکیت اور تعمیر سے متعلق دستاویزات طلب کئے گئے ہیں۔ جبکہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اجین شہر کی شاہی مسجد کو جزوی طورپر منہدم کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے یہ دلیل دی ہے کہ یہ کام مفاد عامہ میں سڑک چوڑی کرنے کے لیے کیا جارہا ہے۔ اسی مقصد سے پچھلے دنوں جے پور میں بھی ایک مسجد پر بلڈوزر چلا تھا۔ غرض یہ کہ ملک میں اس وقت مسجدوں کو غیر قانونی قرار دے کر منہدم کرنے کی کارروائیاں شباب پر ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سرکاری مشنری نے شرپسند اور فسطائی عناصر کی ملی بھگت سے مسجدو ں کے خلاف اعلان جنگ کردیا ہے۔ حالانکہ ملک میں ایسے ہزارہا مندر ہیں جو سرکاری زمینوں پر ناجائز طورپرتعمیر کئے گئے ہیں، لیکن ابھی تک ایسے کسی مندر کا انہدام تو دور کی بات ہے، اسے نوٹس تک جاری نہیں کیا گیا ہے۔
  اس وقت بی جے پی کے اقتدار والی کئی ریاستوں میں مسجدوں، مدرسوں اور مزاروں کو منہدم کرنے کی  منصوبہ بند مہم چل رہی ہے۔ سب کی کہانی تقریباً ایک جیسی ہے۔ پہلے وشوہندو پریشد یا بجرنگ دل کا کوئی کارکن انتظامیہ کو کسی بھی مسجد، مدرسے یا مزار کے غیرقانونی ہونے کی عرضی دیتا ہے اور اس کے بعد انتظامیہ فوراً حرکت میں آجاتا ہے۔ جیسے اس کے لیے کرنے کا سب سے اہم کام یہی ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ انتظامیہ کو اوپر سے ہدایت ہو کہ وہ اس قسم کی عرضیوں پر ہنگامی غور کرکے سرعت سے کارروائی کرے۔حالانکہ ملک میں عبادت گاہوں کے تحفظ کا ایکٹ مجریہ1991موجود ہے جس میں اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ جو عبادت گاہ ملک کی آزادی کے وقت جس حالت میں تھی اسے تبدیل نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی منہدم کیا جائے گا، لیکن المیہ یہ ہے کہ اس کے باوجود  ملک گیر سطح پر مسجدوں کومنہدم کرنے کی مہم چل رہی ہے اور یہ کام بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں میں بہت تیزی کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ اس معاملے میں دستور اور قانون کی بھی پروا نہیں کی جارہی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ مسجدوں کے سروے کرانے کی یہ شرانگیز مہم سابق چیف جسٹس چندر چوڑ کی اس رولنگ کے بعد شروع ہوئی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ”عبادت گاہوں کے تحفظ کا قانون کسی عبادت گاہ کا سروے کرنے سے نہیں روکتا۔“یہی وہ شرانگیز بیان تھا جس کے بعد مسجدوں پر انہدام کی تلوار لٹک رہی ہے۔اس کام میں وشوہندو پریشد، بجرنگ دل اور خود بی جے پی کے لوگ پیش پیش ہیں اور حکومت ان کی پشت پر کھڑی ہوئی ہے۔
 سبھی جانتے ہیں کہ اس وقت ملک میں وشوہندو پریشد، بجرنگ دل اور گؤرکشکوں کی مساوی حکومت قائم ہے اور وہ جو چاہتے ہیں کروالیتے ہیں۔اس کا اندازہ سہارنپورکلکٹریٹ کی مسجد کے معاملے میں بخوبی ہوتا ہے جہاں صرف بجرنگ دل کے ایک کارکن کی عرضی کو ہی خاطر میں لایا گیا اور مسجد کے پیرکاروں کو اپنے قانونی حق کا استعمال کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ ضلع مجسٹریٹ کے حکم کے چند گھنٹوں میں رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاکر مسجد کو یوں زمیں بوس کردیا گیا کہ گویا ملک میں قانون نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے۔سہارنپور کے عوامی نمائندوں کو دھوکے میں رکھ کر گھروں میں نظر بند کردیا گیا۔سہارنپور کی مسلم قیادت کی سادہ لوحی بھی خوب ہے کہ وہ انتظامیہ کی چال کوسمجھ نہیں سکا اور اس کے فریب میں آگیا۔
سہارنپور کی خوبی یہ ہے کہ یہاں اترپردیش کے دیگر شہروں کی طرح فرقہ وارانہ سیاست پروان نہیں چڑھ سکی اور ہندو مسلمان دونوں شیر وشکر کی طرح رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس ہندواکثریتی شہر میں کوئی نہ کوئی مسلمان ممبر پارلیمنٹ چنا جاتا رہا ہے۔ اس وقت بھی لوک سبھا میں سہارنپور کی نمائندگی کانگریس لیڈر عمران مسعود کررہے ہیں جو سابق وزیر قاضی رشید مسعود مرحوم کے بھتیجے ہیں۔ مجھے قاضی رشید مسعود کو قریب سے دیکھنے اور جاننے کا موقع ملا۔ میں نے دہلی میں ان کی رہائش گاہ پرہمیشہ ہندواور مسلمانوں کی مساوی تعداد دیکھی۔انھوں نے یہاں جس قسم کی سیاست کو پروان چڑھایا اسی کا نتیجہ ہے کہ سہارنپور کے ہندوؤں نے بھی اسی زور وشور سے کلکٹریٹ مسجد کے انہدام کی مذمت کی جتنی کہ مسلمانوں نے کی۔ اگر کوئی اور شہر ہوتا تو مسجد کے انہدام کے بعد  وہاں فساد ہوجانا لازمی تھا، مگر سہارنپور کے ہندواور مسلمانوں نے سوجھ بوجھ سے کام لے کر انتظامیہ کی کوشش کو بری طرح ناکام بنادیا۔ مسجد کے انہدام کا اصل مقصد مسلمانوں میں اشتعال پیدا کرنا تھا تا کہ وہ سڑکوں پر آکر احتجاج کریں اور ہندومسلم ٹکراؤ پیدا ہو۔ دراصل اس وقت اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کی آمد آمد ہے اور حکمراں بی جے پی کی پوزیشن اس قدر کمزور ہے کہ اسے اپنی شکست صاف نظر آرہی ہے۔لچر انتظامی مشنری سے عوام بے انتہا پریشان ہیں اور سب سے بڑا معاملہ  رام مندر چندہ چوری کا ہے جس نے ہندو عوام کو موجودہ حکومت سے بری طرح بدظن کردیا ہے۔ یعنی بی جے پی نے ہندوؤں سے جس رام مندر کے نام پر ووٹ مانگے تھے اس کے لوگ وہاں چندہ چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں۔بی جے پی کو  جب کبھی اپنے پیروں کے نیچے سے زمین کھسکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے تو وہ فرقہ وارانہ کشیدگی کو بڑھانے کا کام کرتی ہے۔ دوفرقوں کے درمیان جتنی کشیدگی پیدا ہوگی اسے اتنا ہی سیاسی فائدہ ہوگا۔یہ بی جے پی کا آزمودہ فارمولا ہے۔ اسی صورتحال کو پیرزادہ قاسم نے اپنے ایک شعر میں یوں بیان کیا ہے۔
شہر طلب کرے اگر تم سے علاج تیرگی 
صاحب اختیار ہو آگ لگادیا کرو 
سہارنپور کلکٹریٹ کی مسجد سوسال سے بھی زیادہ پرانیتھی ۔ یہاں تک کے اس کی قدامت کلکٹریٹ کے قیام سے بھی زیادہ تھی ۔ایک مقامی مسلمان یعقوب خاں نے یہ اراضی مسجد کو ہدیہ کی تھی اور ان ہی  کی ہوئی زمین پر کلکٹریٹ کی عمارت بنی ہوئی ہے۔ اسی احاطے میں ایک مندر بھی بنا ہوا ہے، لیکن اس پر کسی کی نظر نہیں پڑی۔ کلکٹریٹ کی مسجد کا معاملہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے سرخیوں میں تھا۔ ایک بجرنگ دل کارکن کی شکایت سے شروع ہوئے معاملے  نے رفتہ رفتہ ایک قانونی تنازعہ کی شکل اختیار کرلی۔ یہاں تک کہ 16/جولائی2026کو سٹی مجسٹریٹ نے مسجد کو غیر قانونی قرار دے کر اس کی انتظامیہ کمیٹی پر چھ کروڑ 42لاکھ کا جرمانہ عائد کردیا۔ یہ اپنی نوعیت کا واحد جرمانہ تھا جس کی رقم اتنی خطیر تھی۔ یعنی جن مسجدوں کو اپنے امام اور موذن کی تنخواہیں دینے کے لیے چندہ اکھٹا کرنا پڑتا ہے وہ کروڑوں روپے کہاں سے لاتیں مگر ظالم کا ظلم یہی ہے کہ وہ مارے اور اپنے شکار کو رونے بھی نہ دے۔ اس کے بعد قانونی جنگ کاآغاز ہوا۔لیکن المیہ یہ ہے کہ اس مسجد کوبچانے کی قانونی جنگ لڑنے والے مسلم وکلاء میں اختلاف پیدا ہوا اور قیادت کا جھگڑا شروع ہوگیا۔ مسلمانوں کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ان کے قائدین اور سماجی کارکن ہمیشہ کریڈٹ لینے کی دوڑ میں ملت کا نقصان کربیٹھتے ہیں۔ سہارنپور کا المیہ اس سے بھی بڑھ کر ہے کہ وہاں کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے لیڈروں کے درمیان انا کی جنگ جاری ہے جس سے مسلمانوں کی طاقت کمزور ہورہی ہے۔کہا جاتا ہے کہ مسائل کی کوکھ سے صالح قیادت جنم لیتی ہے لیکن ہمارا معاملہ یہ ہے قیادت کی کوکھ سے مسائل جنم لے رہے ہیں۔