Jadid Khabar

ٹرمپ نے امریکہ کی ناک کٹوادی

Thumb

پرانی کہاوت ”بند مٹھی لاکھ کی، کھل جائے تو خاک کی۔“ ان دنوں امریکہ پر پوری طرح صادق آرہی ہے۔ امریکہ کے سپرپاور ہونے کاغرور  ٹوٹ رہا ہے اور اس کے جنگی جہاز خلیج فارس میں خاک پھاک رہے ہیں۔ گزشتہ جمعہ کو جب ایران نے امریکہ کا جنگی جہاز مار گرایا تو صدر ٹرمپ نے غصہ کی حالت میں اپنے کئی فوجی افسران کو مستعفی ہونے کا حکم دیا۔ فوجی سربراہ کو ہٹانے کے بعد دوسینئر فوجی اہل کاروں ڈیوڈ ہوڈن اور ولیم گرین کو بھی برطرف کردیا گیا۔ اتنا ہی نہیں ٹرمپ نے اٹارنی جنرل پام بونڈی کو بھی عہدے سے برطرف کردیا۔ امریکی عوام سے خطاب کے دوران ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایران کو پتھر کے دور میں پہنچاکر دم لیں گے، لیکن زمینی سچائی یہ ہے کہ خود ٹرمپ پتھر کے عہد میں جاتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔جیسے جیسے ایران میں امریکہ کی ناکامیوں کی اسکرپٹ لکھی جارہی ہے، ویسے ویسے اندرون خانہ صدرٹرمپ کی پوزیشن خراب ہورہی ہے اور وسط مدتی انتخابات میں ان کی ناکامی کی پیشین گوئیاں کی جارہی ہیں۔عالمی مبصرین کا خیال ہے کہ ایران پر امریکی حملہ ایک بڑی بھول تھی جس سے امریکہ کی حالت کمزور ہوگئی ہے۔ ایران پر امریکہ کی جارحیت اس کی طاقت نہیں بلکہ اس کی کمزوری اور عدم تحفظ کی علامت بن گئی ہے۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس جنگ کا خاتمہ کب اور کیسے ہوگا؟ ٹرمپ نے شروع میں تین چار ہفتوں کے اندر اس جنگ کو ختم کرنے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن جنگ کے ایک ماہ بعد بھی ٹرمپ اتنا ہی وقت اور مانگ رہے ہیں۔یعنی ٹرمپ کو خود ہی نہیں معلوم کہ یہ جنگ کب ختم ہوگی۔ یہ بات درست ہے کہ جنگ شروع کرنا جتنا آسان ہوتا ہے،اسے ختم کرنا اتنا ہی مشکل۔ صدرٹرمپ کے جنگی جنون نے خود امریکہ کو زبردست خسارے سے دوچار کردیا ہے اور اپنی جان بچانے کے لیے انھوں نے یہ شوشہ چھوڑا ہے کہ اس جنگ کے اخراجات خلیجی ملکوں کو برداشت کرنا ہوں گے۔یعنی خلیجی ملکوں کو اس جنگ کی دوہری مار جھیلنی ہوگی۔ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اگلے دوتین ہفتوں کے اندر ایران سے نکل جائیں گے اور یہ کام بغیر کسی’ڈیل‘ کے ہوگا۔حالانکہ ٹرمپ کاریکارڈ یہ ہے کہ ان کا ہرقدم کسی نہ کسی ’ڈیل‘کے لیے ہی اٹھتا ہے، مگر ایران کے خلاف چھیڑی گئی ان کی جنگ ایک ایسی دلدل میں بدل گئی  ہے جس میں وہ مسلسل دھنستے چلے جارہے ہیں۔خود ان کے اتحادی بھی ان سے بار بار یہی پوچھ رہے ہیں کہ آخر انھوں نے ایران پر جنگ مسلط کرکے کیا حاصل کیا ہے اور ایران میں ان کے جنگی مقاصد کیا ہیں، لیکن ان کے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں ہے۔ان پر جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ شدید تر ہوتا جارہا ہے۔ نہ صرف داخلی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی انھیں تنقید کا سامنا ہے۔ امریکہ کے کئی اتحادی ملکوں نے جنگ میں ان کا ساتھ دینے سے گریز کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ روز ٹرمپ نے اپنے اتحادیوں سے کہا ہے کہ”وہ آبنائے ہرمز کھولے بغیر ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کو تیار ہیں۔‘‘آبنائے ہرمز ہی دراصل وہ گزرگاہ ہے جہاں صدرٹرمپ کی گردن پھنسی ہوئی ہے۔ اس آبی گزرگاہ کے بند ہونے سے دنیا میں پٹرول اور قدرتی گیس کی ترسیل اس حدتک متاثر ہوئی ہے کہ پوری دنیا میں تیل کے دام آسمان سے باتیں کرنے لگے ہیں۔
سبھی جانتے ہیں جنگ تباہی کا راستہ ہے اور یہ جنگ جس انداز میں شروع کی گئی ہے، اس کی تباہی محض ان ملکوں تک محدود نہیں ہے جن کے درمیان خوفناک محاذ آرائی جاری ہے بلکہ اس کی زد میں پوری دنیا ہے۔المیہ یہ ہے کہ یہ جنگ جن اہداف کو نظر میں رکھ کر شروع کی گئی تھی، ان میں سے ایک بھی پورا ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔صدر ٹرمپ نے اس جنگ کا آغاز ایران میں اقتدار کی تبدیلی کے لیے کیا تھا، لیکن  ان کو لینے کے دینے پڑگئے ہیں۔ ایران میں تو اس جنگ کے بعد اقتدار مضبوط ہوا ہے جبکہ امریکہ میں صدرٹرمپ کے پیروں تلے سے زمین نکل رہی ہے۔ وہاں ان کے خلاف ایسے مظاہرے دیکھنے کو مل رہے ہیں جن کی امریکی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ دوروز قبل امریکہ کے مختلف شہروں میں ہوئے ’نوکنگس‘ مظاہروں میں تقریباً 80/لاکھ امریکیوں نے شرکت کرکے صدرٹرمپ کے جنگی جنون کی ہوا نکال دی ہے۔ مظاہرین نے فوجی مہم کے خاتمہ اور ملک میں بڑھتی ہوشربا مہنگائی کے خلاف زبردست نعرے بازی کی ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ یہ مظاہرے امریکہ کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہیں۔ 
صدرٹرمپ کو نہ صرف عوامی سطح پر شدید مزاحمت کا سامنا ہے بلکہ خود ان کے گھر سے بھی مخالفت کی آوازیں بلند ہورہی ہیں۔ٹرمپ کی بھتیجی میریٹ ٹرمپ نے ٹرمپ کی حکومتی پالیسیوں کو مسترد کرتے ہوئے کیا ہے کہ”اس جنگ کا نتیجہ ایران میں نہیں بلکہ خودامریکہ میں اقتدار کی تبدیلی کی صورت میں نکلے گا۔ ایکس پر اپنے ایک پروگرام کی کلپ شیئر کرتے ہوئے میری ٹرمپ نے وفاقی انتظامیہ کے ان جوازوں کو مسترد کردیا جو فروری کے اواخر میں شروع ہونے والی اس جنگ کے لیے پیش کئے گئے تھے۔ ان کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ مسلسل اپنے بیانات بدل رہی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ٹرمپ کو ایرانی عوام کی فلاح وبہبود یا ان کی آزادی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ صرف بمباری کررہے ہیں جبکہ ان کے پاس ایرانی عوام کی حقیقی آزادی کا کوئی منصوبہ موجود ہی نہیں ہے۔‘‘میری نے مزید سوال اٹھایا کہ کسی ایسے ملک کے خلاف جنگ چھیڑنا جو براہ راست خطرہ نہ ہو،امریکی مفاد میں کیسے ہوسکتاہے؟ انھوں نے اپنی پوسٹ کے آخر میں سخت لہجہ اپناتے ہوئے لکھا ہے کہ ”ٹرمپ کو رجیم چینج ملے گا، لیکن ایران میں نہیں امریکہ میں۔‘‘ناقدین کے مطابق ’نوکنگس‘ تحریک اور میری ٹرمپ جیسے قریبی افراد کی تنقید ٹرمپ کے لیے آنے والے صدارتی انتخابات میں بڑے سیاسی خطرات پیدا کرسکتی ہے۔
خطرناک اور تباہ کن فضائی حملوں کے بعد بھی ایران کو زیرنہ کرنے کی صدر ٹرمپ کی کوششیں مزید خطرناک رخ اختیار کررہی ہیں۔ انھوں اب ایران کے خلاف زمینی جنگ چھیڑنے کا عندیہ دیا ہے اور مشرق وسطیٰ میں اپنے فوجیوں کی تعداد بڑھاکرپچاس ہزار کردی ہے۔حالانکہ عسکری ماہرین کا خیال ہے کہ پچاس ہزار کی نفری ایران جیسے وسیع ملک پر قبضے یا طویل مدتی کنٹرول کے لیے ناکافی ہے۔ حالانکہ ایران نے امریکی فوج کی اس نقل وحرکت کو اپنی سا  لمیت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ’’اگر امریکی زمین دوز دستوں نے ایرانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی تو اس کا جواب انتہائی خوفناک ہوگا اور امریکی فوج کو سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔“ ایران کے مرکزی فوجی ہیڈکوارٹر کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے کسی بھی ممکنہ زمینی حملے کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا ہے کہ ”ایران کے خلاف کوئی بھی زمینی کارروائی دشمن کی ذلت آمیز گرفتاری پر ختم ہوگی۔ اگر امریکی فوج نے حماقت کی تو ہم انھیں خلیجی مچھلیوں کی خوراک میں بدل دیں گے۔‘‘
واضح رہے کہ امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے دعویٰ کیا ہے امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون ایران کے خلاف زمینی حملوں کی تیاری کررہا ہے‘ تاہم اسرائیل نے اس معاملے میں ٹرمپ کو جھٹکا دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران میں اپنی فوج نہیں اتارے گا۔ چینل12کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کواس مشن میں اکیلے ہی اترنا ہوگا۔ ماہرین کے مطابق اسرائیل کے اس موقف کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ زمینی جنگ میں براہ راست ملوث ہونے سے خطے میں کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہوسکتا ہے۔ مزید یہ کہ اسرائیل پہلے سے ہی اپنے سیکورٹی چیلنجز سے نبرد آزما ہے اور براہ راست کسی جنگ میں کودنے سے گریز کرنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب یہ صورتحال امریکہ کے لیے خاصی پریشان کن ثابت ہوسکتی ہے۔ اگر اسے کسی بڑے اتحادی کے بغیر زمینی آپریشن کرنا پڑتا ہے تو عسکری اور سیاسی طورپر خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ ظاہر ہے ایران جیسے بڑے اور طاقتور ملک کے خلاف زمینی جنگ چھیڑنا آسان نہیں سمجھا جاتا اور اس کے لیے اہم وسائل اور حکمت عملی کی ضرورت ہوگی۔
مبصرین کا خیال ہے کہ اگر امریکہ ایران پر اپنا مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہے تو اسے کم از کم دس لاکھ فوجیوں کی ضرورت ہوگی جبکہ چند ہزار یا محدود فوج کی تعیناتی اس مقصد کے لیے ناکافی ہوگی۔ معروف دفاعی تجزیہ کار سیم کیلی نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ما ضی کی جنگیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایران جیسے بڑے اور مضبوط ملک میں محدود زمینی کارروائی نہ صرف غیر حقیقت پسندانہ ہے بلکہ خطرناک نتائج کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ عراق اور افغان جنگوں کی مثال دے کربتایا گیا ہے کہ عراق میں 2007-8کے دوران تقریباً ایک لاکھ 85 /ہزار امریکی اور اتحادی فوجی تعینات تھے، اس کے باوجود مکمل استحکام حاصل نہ ہوسکا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ایران کے خلاف کسی بڑی زمینی جنگ کا فیصلہ عالمی سطح پر سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔