Jadid Khabar

مودی سرکار کی اسرائیل نوازی

Thumb

گزشتہ ہفتہ کی سب سے اہم خبروزیراعظم نریندر مودی کا دورہ اسرائیل تھی۔ مودی بطور وزیراعظم دوسری بار تل ابیب گئے اور وہاں اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے روایتی گرمجوشی کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔اس موقع پر وزیراعظم نے اسرائیلی پارلیمنٹ کو بھی خطاب کیا اور وہاں انھیں ایک اعزاز بھی دیا گیا۔جس وقت وزیراعظم نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں اپنی تقریر شروع کی تو وہاں کی اپوزیشن جماعتوں نے اس کا بائیکاٹ کیا۔ اس بائیکاٹ کے پیچھے دراصل اسرائیلی وزیراعظم کا جمہوریت مخالف طرز عمل تھا۔ سبھی جانتے ہیں کہ اس وقت اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو دنیا میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ شخص ہیں۔غزہ میں انھوں نے دوسال تک جس بے دردی اور سفاکی سے فلسطینیوں کا خون بہایا ہے، اس کی پوری دنیا نے مذمت کی ہے، لیکن وزیراعظم نریندر مودی نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں تقریر کے دوران غزہ کی نسل کشی کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا بلکہ 7/اکتوبر2023کو اسرائیل میں ہوئے حماس کے حملوں کو بربریت آمیز دہشت گردانہ حملہ قرار دے کر ان اسرائیلیوں سے جذباتی اندام اظہارتعزیت  کیا، جن کے متعلقین حماس کے حملے میں مارے گئے تھے۔وزیراعظم مودی کا یہ طرز عمل فلسطین سے متعلق ان کی پالیسی کا آئینہ دار ہے۔ وزیراعظم مودی نے اپنی تقریر میں ’ہندوستان کو مدرلینڈ اور اسرائیل فادرلینڈ‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”یہ میرے لیے خوش قسمتی کی بات ہے کہ1950میں جس دن ہندوستان نے اسرائیل کو تسلیم کیا تھا، اسی دن وہ پیدا بھی ہوئے تھے۔“بلاشبہ یہی وہ دن تھا جب آنجہانی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے دور میں اسرائیل کو تسلیم کیا گیا تھا۔ اسرائیل اور ہندوستان کے سفارتی رشتوں پر ہم آگے چل کر روشنی ڈالیں گے۔
وزیراعظم کا تازہ اسرائیلی دورہ ایک ایسے وقت میں ہواہے جب مغربی ایشیاء کی صورتحال دھماکہ خیز ہے اور امریکہ، ایران کے خلاف اپنے ہتھیاروں کو دھار دے رہا ہے۔ اسی کشیدگی کی وجہ سے امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے اپنا پہلے سے طے شدہ اسرائیلی دورہ موخر کردیا ہے۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ وزیرخارجہ نے سیکورٹی کی صورتحال کے پیش نظر اپنا دورہ اسرائیل منسوخ کیا ہے، مگر وزیراعظم مودی کو اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ اس وقت جس ملک کے ساتھ ہندوستان کے سب سے قریبی تعلقات ہیں، وہ صرف اور صرف اسرائیل ہی ہے۔ المیہ یہ بھی ہے کہ ان تعلقات میں اس وقت بھی کوئی سردمہری پیدا نہیں ہوئی جب اسرائیل نے غزہ میں درندگی اور بربریت کی تمام حدیں عبور کرلیں اور جنگی مجرم نتن یاہو کے خلاف عالمی عدالت سے گرفتاری وارنٹ جاری ہوئے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان اس وقت اسرائیل کے ساتھ کئی حساس میدانوں میں اشتراک کررہا ہے۔ ان میں سب سے بڑا میدان دفاع کا ہے۔ نہ صرف یہ کہ ہندوستان اسرائیلی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہے  بلکہ خفیہ اطلاعات کے حصول کے معاملے میں بھی دونوں ملکوں کے درمیان اشتراک ناقابل یقین حد تک دراز ہوگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے دنوں اسرائیلی وزیراعظم نے بڑے فخر کے ساتھ کہا تھا کہ’’اب ہند۔ اسرائیل رشتوں کی حد آسمان ہے۔“یوں تو اسرائیل کے ساتھ ہندوستان کے سفارتی رشتے 1992 میں آنجہانی وزیراعظم نرسمہاراؤ کے دور اقتدار میں قائم ہوئے تھے اور نئی دہلی میں اسرائیل کا سفارتخانہ وجود میں آیا تھا۔ مگر اسرائیل سے سفارتی رشتے قائم ہونے کے باوجود فلسطین سے متعلق ہندوستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی تھی۔ ہندوستان پہلے ہی کی طرح فلسطینی کاز کی حمایت کرتا رہا، لیکن 2014میں بی جے پی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ پالیسی یکسر تبدیل ہوگئی۔ مجھے یاد ہے کہ جب پچھلی بار اسرائیل نے غزہ میں آگ برسائی تھی اور اس وقت اسرائیلی بربریت کے خلاف راجیہ سبھا میں ایک قرارداد پیش ہوئی تھی تو اسے بی جے پی سرکار نے منظور نہیں ہونے دیا تھا۔ اس موقع پر ظالم اسرائیل اور مظلوم فلسطین دونوں کو ایک ہی پلڑے میں رکھنے کی کوشش کی گئی تھی۔ یہی اس بار بھی ہوا۔ گزشتہ دوسال کے دوران اسرائیلی بربریت کے نتیجے میں جب 70/ہزار سے زیادہ بے گناہ فلسطینی بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کا قتل عام ہوا تو ہندوستان نے اس کی مذمت نہیں کی اور حماس کو ہی اس کا مجرم گردانا،جبکہ دنیا کے بیشتر ممالک اسرائیلی بربریت کی مذمت کرتے رہے اور اسے سفارتی محاذپر یکا وتنہا کرنے کی کوشش میں سرگرم رہے۔
اسرائیل اور مودی سرکار کے درمیان رشتوں میں سرگرمی کی اصل وجہ بی جے پی کی مسلم مخالف پالیسی ہے۔بی جے پی کی قیادت اس معاملے میں اسرائیل کو اپنا آئیڈیل تصور کرتی ہے۔ اٹل بہاری باجپئی کے دور میں جب اس وقت کے وزیرخارجہ جسونت سنگھ نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا تو انھوں نے دیوار گریہ کو بوسہ دے کر یہ کہا تھا کہ’’درحقیقت اسرائیل کے ساتھ رشتے استوار کرنے میں اس لیے تاخیر ہوئی کہ ہندوستان میں اقلیتوں کی منہ بھرائی کی پالیسی جاری تھی۔‘‘جسونت سنگھ اسرائیل کا دورہ کرنے والے پہلے ہندوستانی وزیرخارجہ تھے۔اس سے قبل جنتا پارٹی کے دور میں اٹل بہاری واجپئی وزیرخارجہ تھے تو اسرائیل کے وزیرخارجہ موشے دایان نے ہندوستان کا خفیہ دورہ کیا تھا جو زیادہ عرصے تک خفیہ نہیں رہ سکا۔ جب اس کی تفصیلات منظرعام پرآئیں تواس پر خاصا واویلا مچا۔ اس کے بعد جب اٹل بہاری باجپئی این ڈی اے کی پہلی حکومت کے وزیراعظم بنے تو انھوں نے اس وقت کے اسرائیلی وزیراعظم ایرئیل شرون کی میزبانی کی، وہ ہندوستان کا دورہ کرنے والے پہلے اسرائیلی وزیراعظم تھے۔2014میں جب وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی میں بی جے پی کی حکومت بنی تو انھوں نے 2017 میں اسرائیل کا دورہ کرکے اپنا نام اسرائیل کا دورہ کرنے والے پہلے ہندوستانی وزیراعظم کے طورپر درج کرالیا۔ اس کے بعد اسرائیل کے ساتھ ہندوستان کے رشتوں میں مسلسل قربت بڑھ رہی ہے اور دونوں کئی اہم امور میں ایک دوسرے کے شراکت دار ہیں۔
ایسا بھی نہیں ہے کہ اسرائیل کے ساتھ رشتے استوار کرنے میں صرف بی جے پی کی ہی دلچسپی رہی ہے۔ اس معاملے میں کانگریس بھی پیچھے نہیں رہی۔1992میں جب اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی رشتے استوارہوئے تو مرکزمیں کانگریسی وزیراعظم نرسمہاراؤ کی سرکار تھی۔اس سے پہلے 1950میں پنڈت جواہر لال نہرو نے اسرائیل کو بمبئی میں اپنا قونصل خانہ کھولنے کی اجازت دی تھی۔ فلسطین کے ساتھ ہندوستان کے رشتوں میں گرمجوشی آنجہانی وزیراعظم اندرا گاندھی کے دور میں پیدا ہوئی۔ یہ وہ دور تھا جب تنظیم آزادی فلسطین کے قائد یاسر عرفات اکثر وبیشتر ہندوستان آیا کرتے تھے۔ انھوں نے اندرا گاندھی کو اپنی منہ بولی بہن اور ہندوستان کو اپنا وطن ثانی قراردیا تھا۔ لیکن یاسر عرفات سے اتنے قریبی رشتوں کے باوجود اندرا گاندھی نے کبھی اسرائیل سے بمبئی میں اپنا قونصل خانہ بند کرنے کے لیے نہیں کہا۔ اس لیے یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ ہند۔اسرائیل اور فلسطین رشتے سفارتی منافقتوں کی ایک داستان سے زیادہ ہیں۔
 مغربی ایشیا ء میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان وزیراعظم مودی کا حالیہ دورہ اسرائیل سوالوں کے گھیرے میں ہے۔امور خارجہ سے متعلق پارلیمانی اسٹیڈنگ کمیٹی نے ایک ایسے وقت میں اس دورے پر سوال کھڑے کئے ہیں جب خطے میں غیر یقینی حالات ہیں۔خاص طورپر ایران میں مقیم ہندوستانی شہریوں کے لیے جاری ایڈوائزری اور امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے تناظر میں اس دورے کی ٹائمنگ پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ دورے سے قبل وزیراعظم مودی نے اپنے اسرائیلی ہم منصب نتن یاہو کے تہنیتی پیغام کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہندوستان اسرائیل کے ساتھ اپنی مضبوط اور پائیدار دوستی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جو باہمی اعتماد، اختراع، امن اور ترقی کے مشترکہ عزم پر مبنی ہے۔‘دوسری طرف نتن یاہو نے نریندر مودی کو اپنا قریبی دوست قرار دیتے ہوئے اس دورے کو تاریخی اہمیت کا حامل بتاتے ہوئے کہا  کہ’’ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان شراکت داری، جدت، سلامتی اور علاقائی تعاون کے میدان میں نئی بلندیوں کو چھورہی ہے۔“ادھر کانگریس جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے اس دورے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”موجودہ حکومت نے فلسطینیوں اور ان کے مفادات کو نظرانداز کردیا ہے۔“ انھوں نے کہا ”ہندوستان ان ابتدائی ملکوں میں شامل تھا جنھوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تھا مگر موجودہ حالات میں حکومت کا موقف متضاد نظر آتا ہے۔“ کانگریس کا کہنا ہے کہ ’’جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ میں جاری کارروائیوں کی عالمی سطح پر مذمت ہورہی ہے تو ایسے وقت میں وزیراعظم کا دورہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔“