Jadid Khabar

کیا وزیراعلیٰ آسام کیخلاف کارروائی ہوگی؟

Thumb

ملک کی سب سے بڑی عدالت نے آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کے خلاف دائر کی گئی عرضیوں کو سماعت کے لیے منظورکرتے ہوئے کہا ہے کہ ”مسئلہ یہ ہے کہ جیسے ہی انتخابات قریب آتے ہیں توآدھی انتخابی لڑائی  سپریم کورٹ میں لڑی جانے لگتی ہے۔“یہ تبصرہ خود چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے کیا ہے اور اس سے یہ اندازہوتا ہے کہ سپریم کورٹ نے اسے محض الیکشن جیتنے کی ایک چال سمجھا ہے، لیکن اگر سنجیدگی سے دیکھا جائے تو یہ محض انتخابی چال نہیں ہے بلکہ اس سے ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے جان ومال کاسوال وابستہ ہے، کیونکہ ملک میں پہلی بار اعلیٰ آئینی عہدے پر بیٹھے ہوئے کسی شخص نے مسلمانوں پر بندوق تانی ہے۔حالانکہ اس سے پہلے حکمراں جماعت کے لوگ انتخابی میٹنگوں میں ’دیش کے غداروں کو، گولی ماروں۔۔۔کو‘ جیسے نعرے لگاکر ماحول میں بارود پھیلاتے  رہے ہیں۔2020کے دہلی اسمبلی چناؤ میں یہ نعرہ بی جے پی کے جس لیڈر نے اچھالا تھا، وہ اس وقت بھی مرکزی کابینہ کا حصہ تھا اور آج بھی مودی سرکار میں وزیرہے۔ فرق یہ ہے کہ اس وقت ’دیش کے غداروں‘ کی نشاندہی نہیں کی گئی تھی اور اب باقاعدہ انھیں نشان زد کرکے ان پر بندوق تان دی گئی ہے۔ 
  اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ملک میں جب بھی کہیں الیکشن ہوتا ہے تو بھارتیہ جنتاپارٹی ایسے موضوعات کو ہوا دیتی ہے جس سے فرقہ وارانہ منافرت پیدا ہوتاکہ اس کے ووٹ بینک میں اضافہ ہو، لیکن ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ بی جے پی کے اقتدار والی کسی ریاست کا وزیراعلیٰ جس نے اپنی ریاست کے تمام باشندوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنے اور انھیں تحفظ فراہم کرنے کا آئینی حلف اٹھایا  ہے، وہ ریاست کی ایک بڑی آبادی پر گولیاں برسانے کے لیے لوگوں کو  اکسارہا ہے۔ یہ شایدملک میں اپنی نوعیت کاپہلا واقعہ ہے جس میں امن وقانون کو طاق پر رکھ کر کھلے عام مسلمانوں کو گولیاں مارنے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ اس لیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا یہ کہنا کہ یہ محض انتخابی حکمت عملی کا ایک حصہ ہے، صورتحال کی سنگینی کو کم کرکے دیکھنا ہے۔اب جبکہ ہیمنت بسوا سرما چاروں طرف سے گھر گئے ہیں تو انھوں نے یہ وضاحت کی ہے کہ”نہ تو یہ ویڈیو ان کا ہے اور نہ ہی ان کے ہینڈل سے جاری کیا گیا ہے۔“ظاہر ہے یہ قانونی کارروائی سے بچنے کا ایک حربہ ہے اور امید یہی ہے کہ سپریم کورٹ میں ملک کے نامی گرامی وکیل انھیں قانونی گرفت سے بچانے کی کوشش کریں گے۔تمام قسم کے قانونی حربے استعمال کئے جائیں گے اور ممکن ہے وہ قانون کی گرفت سے بچنے میں کامیاب بھی ہوجائیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اس ملک میں مسلمانوں کی جان اتنی ارزاں ہوگئی ہے کہ کوئی بھی ان پر رائفل تان کران کی جان لینے کے عزائم کا اظہار کرسکتا ہے۔
بی جے پی کے آفیشل ہینڈل سے جاری کئے گئے اس ویڈیو کو ’پوائنٹ بلینک شاٹ‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔ اس کا پیغام صاف ہے کہ وہ مسلمان جو پہلے بی جے پی کی منافرانہ مہم کا نشانہ تھے، اب سیدھے طورپر بندوق کی نوک پر ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کانگریس نے اس کو مسلمانوں کی نسل کشی کی اپیل قراردیتے ہوئے اس معاملے میں سخت عدالتی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ویڈیو میں ہیمنت سرما جن دومسلمانوں پر فائرنگ کررہے ہیں، ان میں سے ایک داڑھی والے بزرگ ہیں جبکہ دوسرے شخص نے ٹوپی پہن رکھی ہے۔کانگریس جنرل سیکریٹری وینوگوپال نے اس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”یہ نسل کشی کی اپیل کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ایک خواب جس کو یہ فسطائی حکومت دہائیوں سے دیکھ رہی ہے۔“انھوں نے یہ بھی کہا کہ”اس ویڈیو کو ٹرولنگ کے طورپر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا بلکہ یہ زہر اوپر تک پھیلا ہوا ہے اور اس معاملے میں کارروائی کی جانی چاہئے۔انھوں نے مزید کہا کہ”امید نہیں کہ نریندر مودی اس کی مذمت کریں گے یا اس کے خلاف کارروائی کریں گے، لیکن عدلیہ کو ضرور کارروائی کرنی چاہئے اور اس معاملے میں کوئی نرمی نہیں برتنی چاہئے۔“
 ہیمنت سرما نے مسلمانوں کی طرف بندوق تان کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے، وہ انھیں ختم کردیں گے۔ حالانکہ تنازعہ کھڑا ہونے پر انھوں نے اس کی وضاحت یوں کی ہے”وہ مسلمانوں کے خلاف نہیں بلکہ ان بنگالی مسلمانوں کے دشمن  ہیں جو بنگلہ دیش سے آسام میں داخل ہوئے ہیں۔“سوال یہ ہے کہ اگر آسام میں غیرقانونی تارکین وطن موجود ہیں تو کیا انھیں باہر کرنے کا راستہ بندوق کی گولی سے نکلتا ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ اگر وزیراعلیٰ کی طرف سے مسلمانوں پر نشانہ سادھنے کی یہ ویڈیو صرف بنگلہ دیشی مسلمانوں کے لیے تھی تو اسے ڈیلیٹ کیوں کردیا گیا۔ واضح رہے کہ یہ انتہائی اشتعال انگیز اور قابل اعتراض ویڈیو خود بھارتیہ جنتا پارٹی کی صوبائی شاخ کے ایکس ہینڈل سے جاری کی گئی تھی اور اس کا واحد مقصد یہ پیغام دیناتھا کہ آسام کے آنے والے چناؤ میں بی جے پی کا اصل نشانہ مسلمان ہوں گے۔سبھی جانتے ہیں کہ آسام ملک کی واحد ریاست ہے جہاں سب سے زیادہ مسلم آبادی ہے۔بعد میں تنازعہ کھڑا ہونے کے بعد بی جے پی کی آسام اکائی نے سوشل میڈیا ٹیم کے دوملازمین کو برخاست کردیا ہے۔
جہاں تک بی جے پی کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ مسلمانوں کی بدترین دشمن ہے۔ مسلمانوں کے بارے میں جو باتیں پہلے وشوہند پریشد اور بجرنگ دل جیسی انتہا پسند تنظیمیں کہتی تھیں، وہ اب کھلے عام بی جے پی کے لیڈران عوامی جلسوں میں کہہ رہے ہیں۔ خود آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے گزشتہ ہفتہ مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ’’بی جے پی میاؤں کے سخت خلاف ہے اور وہ ان کو تکلیف پہنچانے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ انھوں نے عوام سے کہا تھا کہ اگر کوئی میاں رکشہ والا تم سے پانچ روپے مانگے تو تم اسے چار ہی دو تاکہ اسے نقصان پہنچے۔
ہیمنت سرمابظاہر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی ریاست میں ’میاں‘ بنگلہ دیشی دراندازوں کو کہا جاتا ہے، لیکن درحقیقت ’میاں‘ مسلمانوں کے لیے بی جے پی کا تکیہ کلام ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ وزیراعظم نریندر مودی جب گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تو وہ اپنے انتخابی جلسوں میں مسلمانوں کو ’میاں‘ کہہ کر نشانہ بناتے تھے۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ جس وقت آسام کے وزیراعلیٰ کی طرف سے مسلمانوں پر بندوق تاننے کی ویڈیو وائرل ہوئی اور انھوں نے ’میاؤں‘ کے خلاف مورچہ کھولا تو ہمارے لائق وزیراعظم نریندر مودی ملیشیا میں وہاں کے وزیراعظم انورابراہیم سے بغل گیر ہوکر یہ کہہ رہے تھے کہ”ابراہیم ان کے اس وقت کے دوست ہیں جب وہ وزیراعظم بھی نہیں تھے۔“ عجیب بات یہ ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی جب بھی کسی عرب یا مسلم ملک کے سربراہ سے ملتے ہیں تو ان کی گرمجوشی قابل دید ہوتی ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے سربراہان مملکت کے ساتھ ان کے بغل گیر ہونے کی تصویریں کس نے نہیں دیکھیں۔ ان تصویریں کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ انھیں مسلمانوں سے بڑی محبت اور انسیت ہے، لیکن جب ان ہی کی پارٹی کا ایک وزیراعلیٰ یہ کہتا ہے کہ اسے ’میاؤں‘ سے شدید نفرت ہے اوروہ اس نفرت کا اظہار کرنے کے لیے رائفل کا سہارا لیتا ہے تو وزیراعظم ایک لفظ نہیں بولتے۔سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ اس معاملے میں دائر کی گئی عرضیوں پر کیا فیصلہ صادر کرتا ہے؟ اگر سپریم کورٹ نے اسے محض ایک انتخابی حربے کے طورپر دیکھا تواس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ یہ کھلے طورپر اس ملک کی سب سے بڑی اقلیت کا قلع قمع کرنے کی ایک منصوبہ بند ساز ش ہے اور اس سازش میں آئینی عہدوں پر بیٹھے ہوئے لوگ شریک ہیں۔ یہی اس معاملے کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔سپریم کورٹ کو اسے سمجھ کر ہی کوئی فیصلہ صادر کرنا چاہئے۔