راج ناتھ نے دفاعی شعبے میں خود انحصاری کے اگلے مرحلے 'خود انحصاری 2.0' پر زور دیا
نئی دہلی، 26 اکتوبر (یو این آئی) وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے دفاعی شعبے میں خود انحصاری کے اگلے مرحلے 'خود انحصاری 2.0' کا مطالبہ کرتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی تیار کرنے، تحقیق و ترقی کو مضبوط بنانے اور مقامی سپلائی چین کو مستحکم کرنے پر زور دیا ہے۔
مسٹر سنگھ نے پیر کو یہاں بحریہ کے سیمینار 'سوالمبن 2026' میں کہا کہ درآمدات پر انحصار کم کرنے اور تکنیکی صلاحیت بڑھانے کے لیے مقررہ وقت کے اندر منصوبہ تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپلائی چین کا انتظام صرف ٹیکنالوجی کا معاملہ نہیں، بلکہ قومی سلامتی سے جڑا ایک اسٹریٹجک مسئلہ ہے۔ انہوں نے اہم ٹیکنالوجیز، صنعتوں اور ضروری وسائل کی شناخت کرکے خود انحصاری حاصل کرنے کے لیے واضح مدت مقرر کرنے پر زور دیا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ تحقیق میں ناکامی کو سیکھنے کے عمل کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اس کے لیے خطرات سے بھرپور تحقیقی کاموں کو مالی مدد دینے، نجی شعبے کی شراکت بڑھانے اور کم لاگت والی ٹیکنالوجی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے صنعتوں اور تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے اور نوجوانوں کو تحقیق و اختراع کے مزید مواقع فراہم کرنے کی بات بھی کہی۔
مسٹر سنگھ نے بتایا کہ بحریہ کی جانب سے شروع کیے گئے چیلنجز کے تحت اختراع کے لیے 229 موضوعات پر 4,000 سے زیادہ تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگلے مرحلے میں مقامی مصنوعات کی تعداد کے ساتھ ساتھ ان کے معیار، صلاحیت اور کفایت شعاری پر بھی توجہ دینی ہوگی۔
انہوں نے دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجیز تیار کرنے پر زور دیا، جنہیں شہری اور فوجی، دونوں شعبوں میں استعمال کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایسی ٹیکنالوجی تیار کرنے کی ضرورت بتائی، جسے مسلح افواج کے تینوں شعبوں اور ہندوستانی ساحلی محافظ دستے میں استعمال کیا جا سکے۔
بحریہ کے سربراہ ایڈمرل کرشنا سوامی ناتھن نے کہا کہ بحریہ سے متعلق دفاعی خریداری کے 41 معاملات کو 3,500 کروڑ روپے سے زیادہ کی تخمینہ لاگت کے ساتھ اصولی منظوری دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 1,900 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے 25 معاہدے کیے گئے ہیں۔
اس سیمینار کا موضوع 'اختراع اور مقامی بنانے کے ذریعے طاقت اور صلاحیت' ہے۔ اس میں مصنوعی ذہانت، خود مختار نظام، روبوٹکس اور کوانٹم ٹیکنالوجی سمیت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ پروگرام میں 100 سے زیادہ نمائشی اسٹال لگائے گئے ہیں، جہاں اختراع سے وابستہ کاروباری ادارے اور چھوٹے، بہت چھوٹے اور درمیانہ درجے کے کاروباری ادارے اپنی ٹیکنالوجیز کی نمائش کر رہے ہیں۔