Jadid Khabar

خلیج بنگال میں ہلچل، 11 ریاستوں میں تبدیلیٔ موسم کے آثار، کئی مقامات پر بارش اور طوفان کا الرٹ

Thumb

ہندوستان کے کئی حصوں میں موسم ایک بار پھر کروٹ لینے والا ہے۔ کہیں شدید بارش اور طوفانی ہواؤں کی وارننگ ہے تو کہیں سردی کی سرگوشی کے درمیان آلودگی لوگوں کی پریشانی بڑھا رہی ہے۔ بحیرۂ انڈمان کے اوپر سرگرم گردابی گردش (سائیکلونک سرکولیشن) خلیج بنگال میں موسم کے ایک نئے نظام کے تشکیل پانے کا اشارہ دے رہی ہے۔ محکمہ موسمیات کے ذریعہ جاری الرٹ کے مطابق 23 اکتوبر کو تمل ناڈو سے لے کر شمالی ہندوستان کی کئی ریاستوں تک بارش اور تیز ہواؤں کا اثر دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ دوسری جانب دہلی-این سی آر میں ہوا کا معیار خراب زمرے میں پہنچ گیا ہے۔

ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے مطابق 22 اکتوبر کی صبح شمالی بحیرۂ انڈمان کے اوپر گردابی گردش سرگرم تھی۔ اب اس کے مغرب-شمال مغرب کی سمت آگے بڑھنے کا امکان ہے۔ اس کے اثر سے 23 اکتوبر کے آس پاس جنوب مشرقی اور اس سے متصل مشرق وسطیٰ خلیج بنگال میں کم دباؤ کا علاقہ بن سکتا ہے۔ آگے بڑھتے ہوئے یہ نظام مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق خلیج بنگال میں اکتوبر سے دسمبر کے درمیان گردابی سرگرمیوں کا امکان برقرار رہتا ہے۔ سمندر کا گرم پانی اور سازگار فضائی حالات کسی موسمی نظام کو طاقت دے سکتے ہیں۔ تاہم، موجودہ موسمی نظام سمندری طوفان کی شکل اختیار کرے گا یا نہیں، اس بارے میں ابھی کچھ یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا۔ اس کے راستے، شدت اور ہندوستانی ساحلی علاقوں پر ممکنہ اثرات کی صورت حال آنے والے دنوں میں واضح ہوگی۔
شمالی ہندوستان سے مانسون کی واپسی اور سردیوں کی سرگوشی کے درمیان دہلی اور آس پاس کے علاقوں میں آلودگی بڑھ گئی ہے۔ ملک کی راجدھانی میں جمعہ کی صبح ہوا کے معیار کا اشاریہ (اے کیو آئی) 287 درج کیا گیا، جو خراب زمرے میں آتا ہے۔ صبح کے وقت آسمان پر دھند کی ایک چادر چھائی رہی اور حد نگاہ بھی کم تھی۔ دہلی-این سی آر کی ہوا اب دم گھونٹنے والی ہو گئی ہے۔ ایئر کوالٹی ارلی وارننگ سسٹم کے اندازے کے مطابق اگلے چند دنوں تک ہوا کے معیار میں بہتری کے امکانات نظر نہیں آ رہے ہیں۔ کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ (سی اے کیو ایم) نے درجہ بند ردعمل ایکشن پلان (جی آر اے پی) کے پہلے مرحلے کے اقدامات نافذ کر دیے ہیں۔
گریپ-1 کے تحت دھول سے ہونے والی آلودگی کو روکنے کے لیے تعمیراتی اور انہدام سے متعلق سرگرمیوں پر پابندی رہے گی۔ دہلی-این سی آر کے ہوٹلوں، ریستورانوں اور سڑک کنارے لگنے والے کھانے کے کھلے اسٹالوں پر کوئلے یا لکڑی کے استعمال پر پابندی رہے گی۔ ڈیزل جنریٹروں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ سڑکوں پر پانی کا چھڑکاؤ کیا جا رہا ہے اور ویکیوم مشینوں کے ذریعے دھول کے ذرات ہٹائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یکم نومبر سے بی ایس-6 سے کم معیار والی گاڑیوں کو دہلی میں داخلے کی اجازت نہیں ملے گی۔