جموں و کشمیر میں مساجد کے انتظام و انصرام، مذہبی کنٹرول اور انتظامی مداخلت کے لے کر ایک نیا تنازعہ دیکھنے کو ملا۔ جموں و کشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن ڈاکٹر درخشاں اندرابی نے ریاست کے ائمہ کے ساتھ ایک آن لائن میٹنگ کے دوران بتایا تھا کہ انہیں وقف بورڈ کی جانب سے تیار کردہ ’یکساں خطبۂ جمعہ‘ دینا ہوگا۔ حالانکہ وادئ کشمیر کے اہم سیاسی لیڈران، علماء اور مذہبی تنظیموں کی شدید مخالفت اور سخت ردعمل کے بعد ڈاکٹر اندرابی کو یہ وضاحت دینی پڑی کہ وقف بورڈ کی جانب سے تیار کیا گیا خطبہ پڑھنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا جائے گا اور نہ ہی کسی کو مجبور کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ یہ پورا معاملہ صرف ایک مذہبی خطبہ تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے جموں و کشمیر بورڈ کا تاریخی ڈھانچہ، دفعہ 370 ہٹنے کے بعد کی انتظامی تبدیلی اور سیکورٹی خدشات کے ساتھ ساتھ مذہبی خود مختاری کا ایک بڑا قانونی و سماجی سوال جڑا ہوا ہے۔ اس تنازعہ کی جڑوں کو سمجھنے کے لیے وقف جائیداد اور مساجد کے انتظام و انصرام کی تاریخ کو جاننا ضروری ہے۔
1930 کی دہائی میں مسلم کانفرنس کے ذریعے قائم کیا گیا ’مسلم اوقاف ٹرسٹ‘ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی مذہبی جائیدادوں، مزاروں اور بڑی تعداد میں مساجد کا مرکزی محافظ تھا۔ اس کا بنیادی مقصد ان مذہبی اداروں کا انتظام و انصرام، ضابطہ بندی (ریگولیشن) اور ترقی کرنا تھا، ساتھ ہی مسلمانوں کی سماجی اور تعلیمی ترقی کو فروغ دینا بھی اس کے مقاصد میں شامل تھا۔ 2000 کی دہائی کے آغاز میں اور خاص طور سے اگست 2019 میں دفعہ 370 ہٹنے کے بعد جموں و کشمیر وقف بورڈ کے انتظامی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں۔ مرکزی وقف بورڈ ایکٹ کو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں مکمل طور پر نافذ کیا گیا، جس سے وقف بورڈ کا کنٹرول انتظامی طور پر مزید مضبوط ہو گیا۔
جموں و کشمیر کی مساجد میں ’یونیفارم خطبہ‘ (یکساں جمعہ کا خطبہ) نافذ کرنے کا خیال گزشتہ کچھ سالوں سے انتظامی حلقوں میں موضوع بحث رہا ہے۔ اس کی تاریخ بنیادی طور پر 2023 سے 2026 کے درمیان کی انتظامی کوششوں، سیکورٹی خدشات اور مذہبی ردعمل کی ارد گرد گھومتی ہے۔ دفعہ 370 ہٹنے کے بعد جموں و کشمیر میں مذہبی اور عوامی اداروں کے انتظامی ڈھانچوں میں کئی تبدیلیاں کی گئیں۔ جموں و کشمیر وقف بورڈ کو مزید فعال کیا گیا اور اس کے طریقۂ کار میں انتظامی نگرانی بڑھائی گئی۔