ممبئی: مہاراشٹر کے انٹرن ڈاکٹروں نے ماہانہ اعزازیہ 18 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ ایسوسی ایشن آف اسٹیٹ میڈیکل انٹرنز (اے ایس ایم آئی) سے وابستہ ڈاکٹروں نے جمعرات کو ممبئی کے جے جے اسپتال میں خاموش مظاہرہ کیا اور حکومت کو یکم نومبر تک فیصلہ کرنے کی مہلت دی۔ مطالبہ منظور نہ ہونے پر 2 نومبر سے ہڑتال ہوگی، تاہم ہنگامی خدمات جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مہاراشٹر میں انٹرنز کو دوسری ریاستوں کے مقابلے میں کم اعزازیہ ملتا ہے۔ ان کے مطابق اتر پردیش، بہار اور کئی دیگر ریاستوں میں انٹرن ڈاکٹروں کو تقریباً 25 ہزار روپے یا اس سے زیادہ ماہانہ دیے جاتے ہیں۔ ممبئی جیسے مہنگے شہر میں رہائش اور روزمرہ اخراجات کے لیے موجودہ 18 ہزار روپے ناکافی ہیں۔
اے ایس ایم آئی کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر رمن پوار نے کہا کہ یہ مطالبہ 2024 سے زیرِ التوا ہے۔ ان کے مطابق اسی سال احتجاج کے دوران اعزازیہ 30 ہزار روپے کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، مگر حکومت نے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنز اب اسی مطالبے کے لیے دوبارہ متحد ہوئے ہیں۔
پوار نے بتایا کہ تنظیم نے اگست سے اکتوبر تک وزیر تعلیم، پرنسپل سیکریٹری، نائب وزیر اعلیٰ، وزیر اعلیٰ اور متعلقہ حکام کو کئی خطوط بھیجے۔ ستمبر میں حکومت کو جواب کے لیے 15 سے 20 دن دیے گئے، لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔ ان کے مطابق 5 اکتوبر کو نظرثانی کی درخواست بھی جمع کرائی گئی، جس کی وصولی کی نقل ان کے پاس ہے۔ مزید دس دن انتظار کے بعد حکام سے رابطہ کیا گیا اور دو ملاقاتیں ہوئیں، مگر ان میں صرف یقین دہانی کرائی گئی، کسی فیصلے یا اگلی ملاقات کی تاریخ کا اعلان نہیں ہوا۔
تنظیم کے مطابق احتجاج صرف ممبئی میں نہیں بلکہ ریاست بھر میں ہو رہا ہے۔ اسپتال کے ڈین کو گزشتہ تین ماہ میں تین خطوط دیے گئے، جبکہ ڈین نے اپنی تجویز ڈائریکٹوریٹ آف میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (ڈی ایم ای آر) کو بھیجی۔
پوار نے کہا کہ ڈی ایم ای آر کو بھی اسی عرصے میں تقریباً 6 خطوط ارسال کیے گئے۔ حکام نے بتایا کہ ان کی تجویز محکمہ صحت کو بھیج دی گئی ہے۔
پوار نے سوال کیا کہ اگر فائل محکمہ مالیات تک پہنچ چکی ہے تو فیصلہ اب تک کیوں نہیں ہوا اور انٹرنز کو مزید کتنا انتظار کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ احتجاج خاموش ہے، لیکن یکم نومبر تک ٹھوس پیش رفت نہ ہونے پر 2 نومبر سے ہڑتال کی جائے گی۔ ان کے مطابق ہڑتال کے دوران ایمرجنسی خدمات جاری رہیں گی۔