Jadid Khabar

اتر پردیش: ایس آئی آر میں مصروف افسران اور ملازمین کے تبادلوں پر 4 جنوری تک پابندی

Thumb

اتر پردیش میں ووٹر لسٹ کی ’خصوصی مختصر نظرثانی‘ (ایس ایس آر) میں مصروف افسران اور ملازمین کے تبادلوں پر 12 نومبر سے 4 جنوری 2027 تک پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس مدت کے دوران ڈی ایم سمیت ایس ایس آر میں مصروف دیگر افسران اور ملازمین کے تبادلے الیکشن کمیشن کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکیں گے۔ ایس ایس آر کی ڈرافٹ ووٹر لسٹ 12 نومبر کو جاری کی جائے گی۔ اس کے بعد دعوے اور اعتراضات وصول کیے جائیں گے اور ان کے تصفیے کے بعد حتمی فہرست 4 جنوری کو جاری کی جائے گی۔

چیف الیکٹورل آفیسر نودیپ رنوا نے بدھ کے روز اس سلسلے میں حکم جاری کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈرافٹ ووٹر لسٹ جاری ہونے سے لے کر حتمی ووٹر لسٹ جاری ہونے تک کسی بھی آفیسر یا ملازم کا تبادلہ نہیں ہوگا۔ عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 کی دفعہ 13 سی کے تحت ووٹر لسٹ کی تیاری، نظرثانی اور ترمیم کی مصروفیات سے وابستہ افسران کو الیکشن کمیشن میں ڈیپوٹیشن پر تعینات تصور کیا جاتا ہے۔ اس مدت کے دوران وہ کمیشن کے کنٹرول، نگرانی اور تادیبی اختیار کے تابع ہوتے ہیں۔
12 نومبر کو ڈرافٹ ووٹر لسٹ جاری کی جائے گی۔ اس کے بعد 12 نومبر سے 11 دسمبر تک ڈرافٹ ووٹر لسٹ پر دعوے اور اعتراضات وصول کیے جائیں گے۔ دعوؤں اور اعتراضات کا تصفیہ 28 دسمبر تک کیا جائے گا اور 4 جنوری 2027 کو حتمی ووٹر لسٹ جاری کی جائے گی۔ رنوا نے بتایا کہ مرکزی الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق نظرثانی کی مدت کے دوران ضلع الیکشن افسر، الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر اور اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر سمیت نظرثانی کے کاموں میں مصروف افسران کے عہدے خالی نہیں رکھے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : ایس آئی آر کے خلاف راہل گاندھی سمیت انڈیا بلاک کے 11 رہنما سپریم پہنچے کورٹ، عرضی دائر، جلد ہوگی سماعت
پیلی بھیت میں ووٹر لسٹ میں سامنے آئی بے ضابطگیوں کو دیکھتے ہوئے چیف الیکٹورل آفیسر نودیپ رنوا نے ریاست کے سبھی ضلع الیکشن افسران کو ووٹر لسٹ کی باریک بینی سے جانچ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے پیلی بھیت میں سامنے آئی بے ضابطگیوں پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے سبھی افسران سے 2 دنوں کے اندر رپورٹ طلب کی ہے۔ وہیں پیلی بھیت کے ڈی ایم آلوک کمار نے بتایا کہ ووٹر لسٹ میں ترمیم کے عمل کی جانچ کرائی جا رہی ہے۔ متعلقہ حقائق اور دستاویزات کی بنیاد پر رپورٹ تیار کی جا رہی ہے۔ یہ دیکھا جا رہا ہے کہ قواعد پر عمل کیا گیا یا نہیں۔ واضح رہے کہ سماجوادی پارٹی نے پیر کے روز اس معاملے میں میمورنڈم پیش کیا تھا۔ بدھ کے روز کانگریس پارٹی نے بھی یہ معاملہ اٹھایا۔