ہندوستانی سنیما میں بعض فن کار ایسے ہوتے ہیں جو مرکزی کردار ادا کیے بغیر بھی اپنی الگ پہچان بنا لیتے ہیں۔ ان کی موجودگی فلم کے مزاح، مکالموں اور یادگار مناظر کو ایک نئی جہت دیتی ہے۔ گووردھن کمار اسرانی، جنہیں فلمی دنیا اسرانی کے نام سے جانتی ہے، ایسے ہی فن کار تھے۔ فلم ’شعلے‘ میں جیلر کے کردار سے شہرت حاصل کرنے والے اسرانی نے پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے تک ہندی اور گجراتی سنیما میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ان کی خاص بات یہ تھی کہ وہ محض ہنسانے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے چہرے کے تاثرات، مکالموں کی ادائیگی اور کردار کی مناسبت سے مزاح پیدا کرنے کے لیے بھی پہچانے جاتے تھے۔
اسرانی کی فلمی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کی ہمہ جہت اداکاری تھی۔ انہوں نے معاون اداکار، مزاحیہ فن کار، مرکزی اداکار، ہدایت کار اور فلم ساز کی حیثیت سے کام کیا۔ ان کے کرداروں میں پھکڑ مزاح سے لے کر سنجیدگی اور لطیف طنز تک کئی رنگ نظر آتے ہیں۔ انہوں نے متعدد فلموں میں مرکزی اداکار کے دوست کا کردار ادا کیا، لیکن ان کی اداکاری محض مرکزی کردار کی معاونت تک محدود نہیں رہی۔ کئی مواقع پر ان کی موجودگی نے فلم کے مزاحیہ مناظر کو یادگار بنا دیا۔
’شعلے‘ کے جیلر نے بنائی الگ شناخت
اسرانی کو سب سے زیادہ شہرت رمیش سپی کی مشہور فلم ’شعلے‘ میں جیلر کے کردار سے ملی۔ اس کردار میں انہوں نے ایڈولف ہٹلر کے انداز کی نقالی کرتے ہوئے مزاحیہ مکالمے ادا کیے۔ ان کا مخصوص انداز اور چہرے کے تاثرات فلم کے یادگار مناظر میں شمار ہوتے ہیں۔ اس کردار نے انہیں عوام میں غیر معمولی مقبولیت دلائی۔
تاہم، اسرانی کے فلمی سفر کو صرف ’شعلے‘ کے جیلر تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ’چپکے چپکے‘، ’چھوٹی سی بات‘، ’بالیکا بدھو‘، ’آج کی تازہ خبر‘، ’نمک حرام‘، ’روٹی‘، ’پریم نگر‘، ’چرس‘، ’دل لگی‘ اور ’پتی پتنی اور وہ‘ جیسی فلموں میں مختلف نوعیت کے کردار ادا کیے۔ ان کی اداکاری کی انفرادیت یہ تھی کہ وہ چھوٹے کردار میں بھی اپنی موجودگی کا احساس دلا دیتے تھے۔
راجیش کھنہ سے دوستی اور 25 فلموں کا ساتھ
اسرانی کے فلمی سفر کا ایک دلچسپ پہلو سپر اسٹار راجیش کھنہ کے ساتھ ان کی قربت تھی۔ دونوں کی ابتدائی ملاقات فلم ’باورچی‘ کے سیٹ پر ہوئی تھی، لیکن ’نمک حرام‘ کے بعد ان کی دوستی گہری ہوگئی۔ دونوں نے 1972 سے 1991 کے درمیان تقریباً 25 فلموں میں ایک ساتھ کام کیا۔
راجیش کھنہ کے ساتھ اسرانی کی جوڑی نے کئی فلموں میں مزاحیہ مناظر کو یادگار بنایا۔ بتایا جاتا ہے کہ راجیش کھنہ فلم سازوں اور ہدایت کاروں سے اپنی فلموں میں اسرانی کو شامل کرنے کی سفارش بھی کرتے تھے۔ اس رفاقت نے اسرانی کو کئی اہم مواقع فراہم کیے اور ان کی مزاحیہ اداکاری کو وسیع تر ناظرین تک پہنچایا۔
پانچ دہائیوں میں 350 سے زیادہ فلمیں
اسرانی کا فلمی سفر غیر معمولی طور پر وسیع تھا۔ انہوں نے 350 سے زیادہ ہندی اور گجراتی فلموں میں کام کیا۔ 1970 کی دہائی میں انہوں نے 101 فلموں میں کردار ادا کیے، جب کہ 1980 کی دہائی میں ان کی 107 فلمیں ریلیز ہوئیں۔ ان اعداد سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس دور میں وہ ہندی سنیما کے مصروف ترین معاون اور مزاحیہ اداکاروں میں شامل تھے۔
1970 کی دہائی میں ہریشیکیش مکھرجی، گلزار اور آتما رام جیسے ہدایت کاروں نے انہیں اپنی فلموں میں بار بار موقع دیا۔ اسرانی نے ان فلموں میں مزاحیہ کرداروں کے ساتھ مختلف نوعیت کے کردار بھی ادا کیے۔ 1974 میں فلم ’آج کی تازہ خبر‘ اور 1977 میں ’بالیکا بدھو‘ کے لیے انہیں بہترین مزاحیہ اداکاری کے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔