Jadid Khabar

گیانیش کو ہٹانے اور ایس آئی آر واپس لینے کے مطالبے پر’انڈیا‘اتحاد کا سپریم کورٹ تک مارچ

Thumb

نئی دہلی، 12 اکتوبر (یو این آئی) ’انڈیا‘اتحاد کے رہنماؤں اور اراکینِ پارلیمنٹ نے ووٹ چوری کا الزام لگاتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کارروائی، ووٹر فہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) پر روک لگانے اور ’ووٹ چوری‘کے الزامات کی تحقیقات کے مطالبات کے حق میں پیر کے روز یہاں بارہ کھمبا روڈ سے سپریم کورٹ تک مارچ نکالا، جس میں بڑی تعداد میں مظاہرین نے شرکت کی۔اپوزیشن اتحاد ایس آئی آر کے عمل پر روک لگانے، ووٹر فہرست سے مبینہ طور پر غلط طریقے سے ہٹائے گئے ناموں کے معاملے میں مداخلت کرنے اور انتخابی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ حقِ رائے دہی کے تحفظ اور انتخابی عمل میں عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ان مسائل پر عدالتی مداخلت ضروری ہے۔’انڈیا‘اتحاد کے اس مارچ میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو، کرناٹک کے وزیر اعلیٰ اور کانگریس رہنما ڈی کے شیو کمار، تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی، کانگریس رہنما سچن پائلٹ، ہماچل پردیش حکومت کے وزیر وکرمادتیہ سنگھ، راشٹریہ جنتا دل کے تیجسوی یادو، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شراد پوار) کی سپریا سولے، کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال، سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو، شیو سینا (اودھو بالاصاحب ٹھاکرے) کے اراکینِ پارلیمنٹ سنجے راؤت اور اروند ساونت، جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی رہنما مہوا مانجھی نیز ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا سمیت متعدد اپوزیشن رہنما شامل ہوئے۔مارچ کے دوران اپوزیشن اراکینِ پارلیمنٹ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف نعرے بازی کی اور انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے رہے۔ مظاہرین نے ’ووٹ چوروں‘سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے عمل میں بے ضابطگیوں کی وجہ سے اہل ووٹروں کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔مسٹر وینوگوپال نے کہا کہ یہ طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ چیف الیکشن کمشنر اور انتخابی نظام کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی تحریک ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ چیف الیکشن کمشنر کا استعمال ملک کی جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن کی لڑائی ہندوستان کے چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کے خلاف نہیں بلکہ چیف الیکشن کمشنر، وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کی جمہوری اقدار اور اصولوں کو کمزور کیا جا رہا ہے۔