Jadid Khabar

مانسون اجلاس ملتوی ہوئے 60 دن گزر گئے، اب تک اجلاس کا باضابطہ اختتام نہیں کیا گیا: جے رام رمیش

Thumb

کانگریس لیڈر اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے اختتام میں تاخیر، حد بندی اور چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کو لے کر مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک طویل پوسٹ کی۔  وہ لکھتے ہیں کہ ’’ 13اگست 2026 کو پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیے جانے کے باوجود اب تک اجلاس کا باضابطہ اختتام نہیں کیا گیا ہے۔ آج اس کا 60واں دن ہے۔ اس تاخیر نے بہت پہلے ہی تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ اس سے قبل سب سے طویل تاخیر 2015 کے مانسون اجلاس میں ہوئی تھی، جب اجلاس کے اختتام میں 28 دن لگے تھے۔‘‘

کانگریس لیڈر نے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’’یہ صاف ہے کہ اپنے عہدے سے رخصت ہو رہے مرکزی وزیر داخلہ کی مودی حکومت کی جانب سے حد بندی سے متعلق خطرناک بلوں کو منظور کرانے کے لیے لوک سبھا میں انتہائی بدنام 2 تہائی اکثریت حاصل کرنے کی مایوس کن کوششیں بری طرح ناکام رہی ہیں۔ این ڈی اے کے کئی اتحادی خود ان بلوں کی مخالفت کر رہے ہیں اور اب انہوں نے اچانک نئی ہمت کا مظاہرہ بھی شروع کر دیا ہے۔ اس دوران گیانیش کمار کا معاملہ پورے ملک میں چھا گیا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے مذموم عزائم کو 17 اپریل 2026 کو لوک سبھا میں اپوزیشن کے اتحاد اور باہمی حمایت کے باعث زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ اتحاد آج بھی برقرار ہے، اگرچہ وزیر داخلہ نے اپوزیشن کی کچھ جماعتوں میں پھوٹ ڈال دی ہے۔‘‘
راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کا کہنا ہے کہ ’’مودی حکومت کو اب باوقار طریقے سے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا اجلاس باضابطہ طور پر ختم کر دینا چاہیے اور حد بندی کے معاملے پر آگے کا راستہ طے کرنے کے لیے تمام پارٹیوں کے ساتھ حقیقی بات چیت شروع کرنی چاہیے، جس کا مطالبہ اپوزیشن لیڈران بار بار کرتے رہے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’لیکن اس سے قبل حکومت کو چیف الیکشن کمشنر کا استعفیٰ یقینی بنانا ہوگا، ایس آئی آر کا عمل روکنا ہوگا اور پورے انتخابی نظام میں عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے قدم اٹھانے ہوں گے۔ اس نظام کو انتہائی بری طرح کمزور اور آلودہ کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ، شاید یہ امید کرنا ہی بہت زیادہ ہے کہ جن 2 لوگوں نے خود اس نظام کو کمزور کیا ہے، وہی اسے بہتر بنانے کے لیے قدم اٹھائیں گے۔ لیکن بالآخر آئین کی ہی جیت ہوگی اور عوام کا عزم ہر رکاوٹ پر بھاری پڑے گا۔‘‘