راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ او سینئر کانگریس لیڈر اشوک گہلوت نے بھرت پور میں سابق بی جے پی رکن اسمبلی اتر سنگھ بھڑانا کے قتل پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے راجستھان کے لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے پولیس انتظامیہ کی ناکامی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 2 سال سے تنازعہ ہونے کے باوجود کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟ جب سابق رکن اسمبلی ہی محفوظ نہیں ہے تو عام لوگوں کی حفاظت کیسے ہوگی؟
اشوک گہلوت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک اخبار کا تراشا پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’وزیر اعلیٰ کے آبائی ضلع بھرت پور میں بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی اتر سنگھ بھڑانا کا قتل کر دیا گیا۔ یہ راجستھان میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پوری طرح بگڑ جانے کا ثبوت ہے۔ جب ایک سابق رکن اسمبلی کو دن دہاڑے 80-70 لوگ گھیر کر مار دیں تو عام آدمی کا تو رام ہی رکھوالا ہے اس حکومت میں۔‘‘
سابق ریاستی وزیر اعلیٰ نے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’’خبروں کے مطابق یہ تنازعہ تقریباً 2 سال سے جاری تھا۔ 2 سال تک پولیس اور انتظامیہ کیا کرتی رہی؟ جب وارننگ واضح تھی، تب کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟ یہ قتل پولیس اور انتظامیہ کی ناکامی کا نتیجہ ہے۔ جس حکومت میں اپنے ہی سابق رکن اسمبلی محفوظ نہیں، وہ وعوام کو تحفظ کا بھروسہ کیسے دلا سکتی ہے؟‘‘
قابل ذکر ہے کہ اتوار (11 اکتوبر) کی شام تقریباً 6:30 بجے اتر سنگھ بھڑانا بھونڈا گاؤں میں واقع اپنے کریشر پلانٹ پر موجود تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ گزشتہ تقریباً ایک برس سے بند پڑے کریشر پلانٹ کو دوبارہ شروع کرانے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔ اسی دوران گاؤں والوں اور بھڑانا کے حامیوں کے درمیان تنازعہ بڑھ گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے معاملہ مارپیٹ تک پہنچ گیا۔ الزام ہے کہ اس دوران بڑی تعداد میں لوگوں نے لاٹھیوں اور پتھروں سے حملہ کر دیا۔ تصادم میں اتر سنگھ بھڑانا اور ان کے ساتھی گگن شرما، ساکن ندبئی، شدید طور پر زخمی ہو گئے۔ دونوں کو پہلے ویر کے سب ڈسٹرکٹ اسپتال لے جایا گیا۔ حالت تشویش ناک ہونے پر بھڑانا کو جے پور اور گگن شرما کو بھرت پور ریفر کر دیا گیا۔ جے پور کے ایس ایم ایس اسپتال میں علاج کے دوران بھڑانا کی موت ہو گئی۔