Jadid Khabar

کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنماؤں کو طیارے میں حراست میں لیا گیا

Thumb

نئی دہلی، 10 اکتوبر (یو این آئی) ووٹرفہرستوں میں مبینہ گڑبڑ کے الزامات پر چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے کے حق میں ہفتے کے روز جنتر منتر پرمجوزہ احتجاجی مظاہرے سے قبل دہلی پولیس نے 'کاکروچ جنتا پارٹی' (سی جے پی) کے اہم رہنماؤں ابھیجیت دیپکے، سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کو حراست میں لے لیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ان تینوں رہنماؤں کو دہلی پہنچنے پر اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہی حراست میں لے لیا گیا۔سی جے پی نے اپنے رہنماؤں کو حراست میں لیے جانے کی اطلاع دیتے ہوئے اس کارروائی کی شدید مذمت کی ہے۔ پارٹی کی جانب سے جہاز کے اندر کا ایک ویڈیو بھی شیئر کیا گیا ہے، جس کے مطابق طیارے کے ہوائی اڈے پر اترنے کے بعد کچھ خاتون پولیس اہلکار طیارے کے اندر پہنچیں اور ان تینوں رہنماؤں سے بات چیت کر کے انہیں مظاہرے میں شامل ہونے سے روکنے اور سمجھانے کی کوشش کی۔ تاہم، بات چیت ناکام ہونے پر پولیس نے ابھیجیت دیپکے، سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کو اپنی حراست میں لے لیا۔ اس دوران ابھیجیت دیپکے نے پولیس سے کہا کہ "دیکھو ملک کہاں جا رہا ہے، یہ آمریت ہے۔ ہم گرفتار ہونے کے لیے ہی آئے ہیں، کر لو گرفتار۔"ادھر، سی جے پی نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ یوٹیوبر اور سوشل ایکٹیوسٹ دھرو راٹھی کو گروگرام میں واقع ان کے گھر سے حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پارٹی نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ "نوجوانوں کے سوال پوچھنے اور غلط کاموں کے خلاف آواز اٹھانے سے حکومت خائف اور ڈری ہوئی ہے۔" اسی طرح پارٹی نے اپنی لیگل افیئرز ہیڈ رتنا سنگھ کو بھی حراست میں لیے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔احتجاجی مقام پر شرکت کے لیے آنے والے افراد کو پولیس لگاتار حراست میں لے رہی ہے۔ تاہم، حراست میں لیے گئے کل افراد کی تعداد اور پولیس کی جانب سے کی گئی اس کارروائی کے تعلق سے تاحال کوئی باضابطہ اعداد و شمار یا بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔قابلِ ذکر ہے کہ دہلی پولیس نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ مقررہ ضابطوں اور قانونی اجازت کے بغیر کسی بھی طرح کے مظاہرے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ متوقع احتجاج کے پیشِ نظر جنتر منتر اور اس کے آس پاس کے تمام اہم علاقوں میں بھاری پولیس فورس اور سیکورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔
دریں اثناء سینئر ماہرِ معاشیات اور منموہن حکومت کے دوران نیشنل ایڈوائزری کونسل (این اے سی) کے رکن جیان دریز نے ہفتے کے روز کہا کہ حکومت 'کاکروچ جنتا پارٹی' (سی جے پی) کے احتجاجی مظاہرے سے ڈر گئی ہے، اس لیے اس نے سی جے پی کو روکنے کے لیے ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا ہے۔مسٹر جیان دریز نے آج یہاں جنتر منتر پر نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، "میں ان تمام لوگوں کی طرف سے بول رہا ہوں جو یہاں نہیں پہنچ پائے ہیں کیونکہ یہاں ضرورت سے کہیں زیادہ طاقت کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ حکومت کے اتنے ڈرے ہونے کی وجہ تشدد یا سکیورٹی کا کوئی خطرہ نہیں ہے، بلکہ اس بات کا ڈر ہے کہ ملک کے لوگ یہ سمجھ جائیں گے کہ ان سے ووٹ دینے کا حق چھینا جا رہا ہے۔"قابلِ ذکر ہے کہ دہلی پولیس نے سی جے پی کو آج جنتر منتر پر دھرنا مظاہرہ کرنے کی اجازت نہیں دی تھی اور ہوائی جہاز سے آ رہے اس کے رہنماؤں کو دہلی ہوائی اڈے پر حراست میں لے لیا تھا۔ دہلی پولیس کے افسران نے کل کہا تھا کہ سی جے پی کو ضابطے کے مطابق 10 دن پہلے اجازت کے لیے خط لکھنا چاہیے تھا، اور پولیس نے 20 جولائی کے مظاہرے کے دوران ضوابط کی خلاف ورزی اور ہنگامہ آرائی کا حوالہ دیا تھا۔دہلی پولیس نے جنتر منتر کے آس پاس دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہفتے کے روز جنتر منتر پر احتجاج کرنے جا رہے عام آدمی پارٹی (عآپ) کے قومی کنوینر اروند کیجریوال سمیت پارٹی کے کئی رہنماؤں کو دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا۔حراست میں لیے گئے رہنماؤں میں 'عآپ' کے راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمنٹ سنجے سنگھ، دہلی کے سابق وزیر سوربھ بھاردواج اور ایم ایل اے درگیش پاٹھک بھی شامل ہیں۔ 'عآپ' کے ایم ایل اے کلدیپ کمار نے آج دہلی پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ اروند کیجریوال اور 'عآپ' کے رکنِ پارلیمنٹ سنجے سنگھ کو پولیس مودی حکومت کے حکم پر حراست میں لے کر جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنے کے لیے احتجاج کرنے پہنچ رہی تھی اور اسی دوران پولیس نے رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔انہوں نے کہا، "یاد رکھنا، مودی جی، گیانیش کمار کو استعفیٰ دینا پڑے گا۔" انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اپوزیشن کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔'عآپ' کے قومی میڈیا انچارج انوراگ ڈھانڈا نے کہا، "پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے کیجریوال اور ہم سب کو دہلی پولیس بس میں گھما رہی ہے۔ ان کو پتہ ہی نہیں کہ جانا کہاں ہے یا پھر دہلی کے کسی تھانے میں کیجریوال جی کو لے جانے کی ہمت نہیں ہو رہی؟"مسٹر سنجے سنگھ نے کہا، "پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے دہلی پولیس یہاں سے وہاں گھوم رہی ہے۔ اروند کیجریوال کو کس تھانے میں لے جانا ہے، دہلی پولیس کو نہیں پتہ؟ عجیب مذاق چل رہا ہے۔"