Jadid Khabar

پاکستان کو ’15 ٹکڑوں‘ میں تقسیم کرنے کی تیاری کر رہے عاصم منیر، مخالفت میں اٹھنے لگی آواز

Thumb

پاکستان میں ملک کا سیاسی نقشہ بدلنے کی بات ہو رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر 4 بڑے صوبوں کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے کے حامی ہیں۔ اس سے ملک میں 12 سے 15 نئے صوبے بنائے جا سکتے ہیں۔ ایک متبادل تجویز میں 160 چھوٹے انتظامی خطے بنانے کی بات بھی شامل ہے۔ حالانکہ اس طرح کی تجاویز کے خلاف آوازیں بھی اٹھنے لگی ہیں۔

فی الحال پاکستان میں 4 صوبے ہیں۔ ان میں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان شامل ہیں۔ ان کی تقسیم سے انتظامی نظام میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔ لیکن اس کا اثر صرف سرکاری کام کاج تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس سے ملک میں سیاسی طاقت کا توازن بھی بدل سکتا ہے۔ دراصل پاکستان کے چاروں صوبے آبادی اور رقبے کے لحاظ سے ایک دوسرے سے کافی مختلف ہیں۔ پنجاب ملک کا سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے۔ یہاں تقریباً 12.8 کروڑ لوگ رہتے ہیں۔ یہ پاکستان کی نصف سے زیادہ آبادی ہے۔ دوسری طرف بلوچستان رقبہ کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے، لیکن یہاں تقریباً 1.5 کروڑ لوگ رہتے ہیں۔
’دی اکونومسٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق پنجاب جیسے بڑے صوبے کا انتظام چلانا بھی ایک چیلنج ہے۔ دیہی علاقوں میں لوگوں کو سرکاری خدمات حاصل کرنے کے لیے گھنٹوں سفر کرنا پڑ سکتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پنجاب کی ایک چوتھائی سے بھی کم آبادی کو گھر پر باقاعدگی سے پینے کا صاف پانی ملتا ہے۔ فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا استدلال ہے کہ بڑے صوبوں کو مؤثر طریقے سے چلانا مشکل ہے۔ تاہم پاکستان کے معاشی مسائل کی واحد وجہ انتظامی ڈھانچہ نہیں ہے۔ ملک کمزور معاشی ترقی، مہنگائی اور بھاری قرضوں کے بوجھ سے بھی نبرد آزما ہے۔
قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں فوج طویل عرصہ سے سیاست میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ ملک کی تاریخ کے دو پانچویں حصہ سے زیادہ عرصہ تک فوج براہ راست اقتدار میں رہی ہے۔ منتخب حکومتیں بھی کئی مرتبہ اس کے اثر و رسوخ کے تحت کام کرتی رہی ہیں۔ ’دی اکونومسٹ‘ کی رپورٹ میں فوج کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فوج کے پاس بڑی مقدار میں زمین اور کاروبار ہیں۔ سرکاری وسائل میں بھی اس کا اہم حصہ ہے۔ ایسے میں صوبوں کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے سے اقتدار کا توازن بدل سکتا ہے۔ اگر نئے صوبے مرکزی حکومت پر زیادہ انحصار کرنے لگے تو فوج اور مرکز کے لیے ان پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنا آسان ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ اس تجویز کے ممکنہ سیاسی اثرات سے متعلق ایک تجزیہ ہے۔

ADVERTISEMENT

پاکستان کے صوبوں سے متعلق بات کریں، تو یہ محض انتظامی نوٹس نہیں ہیں، بلکہ سیاسی طاقت کے بڑے مراکز بھی ہیں۔ پنجاب کو روایتی طور پر پاکستان مسلم لیگ (نواز) کا مضبوط قلعہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کا اثر و رسوخ رہا ہے۔ ان صوبوں کی بڑی آبادی اور انتخابی طاقت انہیں مرکز کے سامنے مضبوط مقام فراہم کرتی ہے۔ اگر انہیں چھوٹے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے تو ان کی سیاسی طاقت تقسیم ہو سکتی ہے۔ اس سے مرکزی حکومت کا اثر و رسوخ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس لیے سوال صرف یہ نہیں ہے کہ چھوٹے صوبوں کا انتظام چلانا آسان ہوگا یا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا اس سے مرکز کے لیے صوبوں پر کنٹرول برقرار رکھنا آسان ہو جائے گا۔

پاکستان میں انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کا مطالبہ پہلے بھی اٹھ چکا ہے۔ منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال چھوٹے انتظامی علاقے اور زیادہ صوبے بنانے کی ضرورت پر بات کرچکے ہیں۔ اس میں 12 سے 15 صوبے بنانے اور 160 تک چھوٹے انتظامی خطے تشکیل دینے کی تجویز بھی شامل رہی ہے۔

ADVERTISEMENT

یہ بحث ایسے وقت میں ہورہی ہے جب پاکستان کی سیاست میں عاصم منیر کا اثر و رسوخ بڑھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (نواز) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے۔ دوسری جانب سابق وزیر اعظم عمران خان جیل میں ہیں۔ ان کے حامی مسلسل ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ حکام نے ان کی تحریک کے خلاف کارروائی بھی کی ہے۔

صوبوں کی از سر نو تشکیل پر جاری بحث کے درمیان خیبر پختونخوا میں بھی کشیدگی ہے۔ اس صوبے میں عمران خان کی پارٹی ’پاکستان تحریک انصاف‘ (پی ٹی آئی) کی حکومت ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان بات چیت ناکام ہونے کے بعد عمران خان کے ہزاروں حامیوں نے اسلام آباد کی طرف مارچ شروع کر دیا۔ پاکستانی حکومت نے راجدھانی کے آس پاس سیکورٹی بڑھا دی اور مظاہرین کو شہر میں داخل ہونے سے روکنے کی بات کہی۔