بہار کی راجدھانی پٹنہ میں جمعرات (8 اکتوبر) کو اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد ’انڈیا بلاک‘ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاجی مارچ نکالا۔ ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق بہار اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد تیجسوی یادو کی قیادت میں لیڈران راج بھون کی جانب بڑھ رہے تھے، اسی دوران پولیس نے تیجسوی یادو، وی آئی پی سربراہ مکیش سہنی اور آر جے ڈی کی رکن پارلیمنٹ میسا بھارتی سمیت کئی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔
اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹایا جائے، ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر پر اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیا جائے اور بہار میں دوبارہ انتخاب کرایا جائے۔ تیجسوی یادو کو حراست میں لیے جانے کے بعد سیاسی سرگرمیاں مزید تیز ہو گئی ہیں۔ مارچ سے قبل تیجسوی یادو اسمبلی گولمبر پہنچے تھے۔ وہاں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن آج راج بھون تک مارچ کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ گیانیش کمار، وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ووٹ چوری کے ذریعے ملک کے جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔ تیجسوی کا کہنا تھا کہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کر کے گیانیش کمار نے بی جے پی کے اقتدار میں آنے کی راہ ہموار کی۔
تیجسوی یادو نے یہ بھی کہا تھا کہ جب ان معاملات کی حقیقت سامنے آئی تو اپوزیشن پارٹیاں جمہوریت کو بچانے کے لیے متحد ہو گئیں۔ انہوں نے منصفانہ انتخابات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ تمام سیاسی پارٹیوں کو یکساں مواقع ملنے چاہئیں، جسے ’لیول پلیئنگ فیلڈ‘ کہا جاتا ہے۔ اس سے قبل بدھ (7 اکتوبر) کو بھی بہار میں انڈیا بلاک نے ’گیانیش ہٹاؤ، جمہوریت بچاؤ‘ مہم کے تحت احتجاجی مارچ اور مظاہرہ کیا تھا۔ ریاست کے تمام 534 بلاکس میں احتجاج اور پتلے نذر آتش کرنے کا پروگرام رکھا گیا تھا۔ اس کے بعد جمعرات کو ضلعی ہیڈکوارٹروں پر احتجاج اور پٹنہ میں تیجسوی یادو کی قیادت میں راج بھون مارچ کا اعلان کیا گیا تھا۔