Jadid Khabar

آر بی آئی کے ریپو ریٹ میں اضافے کے ساتھ ہی بینکوں نے قرض کیا مہنگا

Thumb

ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے ذریعہ ریپو ریٹ میں اضافے کے ساتھ ہی چند ہی گھنٹوں بعد کئی بڑے بینکوں نے قرض کی شرح سود میں اضافہ کر دیا ہے۔ پنجاب نیشنل بینک (پی این بی)، انڈین بینک، بینک آف بڑودہ، بینک آف انڈیا، انڈین اوورسیز بینک اور تمل ناڈو مرکنٹائل بینک نے کچھ قرض کی شرحوں میں اضافہ کیا ہے۔ ان میں کئی نئی شرحیں 8 اکتوبر سے ہی نافذ ہو گئی ہیں۔ آر بی آئی نے بدھ کے روز ریپو ریٹ میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرکے اسے 5.50 فیصد کر دیا۔ تقریباً 4 برس بعد مرکزی بینک نے پہلی بار ریپو ریٹ میں اضافہ کیا ہے۔ بڑھتی مہنگائی اور کمزور ہوتی کرنسی کے درمیان آر بی آئی نے آئندہ بھی شرحوں میں اضافے کے امکان کے اشارے دیے ہیں۔

آر بی آئی کی 6 رکنی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے ریپو ریٹ بڑھانے کے حق میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا۔ دسمبر 2024 میں سنجے ملہوترا کے آر بی آئی گورنر بننے کے بعد یہ پہلی بار ہے، جب ریپو ریٹ میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کی پہلے ہی امید ظاہر کی جا رہی تھی۔ ملک کے بڑے سرکاری بینکوں میں پی این بی نے بھی اپنی ’ریپو لنکڈ لینڈنگ ریٹ‘ (آر ایل ایل آر) کو 8.10 فیصد سے بڑھا کر 8.35 فیصد کر دیا ہے۔ اس میں 0.35 فیصد بینک اسپریڈ شامل ہے۔ پی این بی کے مطابق نئی شرح 8 اکتوبر سے نافذ ہوگی۔ حالانکہ بینک نے ’مارجنل کاسٹ آف فنڈز بیسڈ لینڈنگ ریٹ‘ (ایم سی ایل آر) اور بیس ریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پی این بی کے تمام پرانے یا نئے قرض پر یکساں اثر نہیں پڑے گا۔ قرض کس شرح سے منسلک ہے، اس بنیاد پر صارفین پر اثر مختلف ہو سکتا ہے۔
انڈین بینک نے اپنی ’ریپو بیسڈ لینڈنگ ریٹ‘ (آر بی ایل آر) کو 7.95 فیصد سے بڑھا کر 8.20 فیصد کر دیا ہے۔ بینک کی نئی شرح بھی 8 اکتوبر سے نافذ ہوگی۔ وہیں بینک آف بڑودہ نے اپنی ریپو بیسڈ لینڈنگ ریٹ کو 7.90 فیصد سے بڑھا کر 8.15 فیصد کر دیا ہے۔ یعنی بینک نے اس میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا ہے۔ بینک آف انڈیا اور انڈین اوورسیز بینک نے بھی اپنی آر بی ایل آر بڑھا کر 8.35 فیصد کر دی ہے۔ دونوں بینکوں کی نئی شرح 8 اکتوبر سے نافذ ہوگی۔ بینک آف انڈیا نے اپنی فائلنگ میں کہا ہے کہ یہ تبدیلی آر بی آئی کی جانب سے ریپو ریٹ میں کیے گئے اضافے کے بعد کی گئی ہے۔ سرکاری بینکوں کے علاوہ تمل ناڈو مرکنٹائل بینک نے بھی اپنی آر ایل ایل آر میں اضافہ کیا ہے۔ بینک نے اسے 8.25 فیصد سے بڑھا کر 8.50 فیصد کر دیا ہے۔
اس سے واضح ہے کہ ریپو ریٹ میں تبدیلی کا اثر صرف سرکاری بینکوں تک محدود نہیں ہے۔ آنے والے دنوں میں دیگر بینک بھی اپنی متعلقہ قرض کی شرحوں میں تبدیلی کر سکتے ہیں۔ ریپو ریٹ میں اضافے کے بعد بینکوں نے اپنی ان قرض کی شرحوں میں تبدیلی کی ہے، جو اس سے منسلک ہوتی ہیں۔ یعنی وہ تمام قرض مہنگے ہو جائیں گے جو ’فلوٹنگ انٹرسٹ ریٹ‘ یا ایکسٹرنل بینچ مارک (ای بی ایل آر/ آر ایل ایل آر) سے منسلک ہیں۔ یعنی اگر آپ کا کار لون، ہوم لون، ایجوکیشن لون، پرسنل لون یا بزنس لون فلوٹنگ ریٹ پر ہے، تو آپ کی ماہانہ ای ایم آئی بڑھ جائے گی یا قرض چکانے کی مدت طویل ہو جائے گی۔ حالانکہ حقیقی اثر آپ کے قرض کی شرح سود، بقایا رقم اور دیگر شرائط پر منحصر ہوگا۔