نئی دہلی، 6 اکتوبر (یو این آئی) پنجاب حکومت نے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے، جس میں مرکزی تحقیقاتی بیورو (سی بی آئی) کو مجرمانہ مقدمہ درج کرنے اور پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ بھگونت مان کے دفتر سے جڑے بدعنوانی سے متعلق الزامات کی تحقیقات کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
ریاستی حکومت نے پیر کے روز پاس کیے گئے ہائی کورٹ کے اس حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک خصوصی اجازت کی درخواست (ایس ایل پی) دائر کی ہے۔
پنجاب حکومت کی طرف سے پیش سینئر ایڈوکیٹ وکاس سنگھ نے چیف جسٹس جسٹس سوریا کانت کے سامنے جلد سماعت کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بدعنوانی کے الزامات کی سی بی آئی تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کی ہدایت سیاست سے متاثر ہے اور وفاقی ڈھانچے کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ چیف جسٹس نے منگل کے روز سماعت کے لیے فہرست بند کرنے سے انکار کر دیا، لیکن کہا کہ معاملے پر بدھ یا جمعرات کو غور کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر سنگھ نے استدلال کیا کہ ہائی کورٹ نے منی لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ (پی ایم ایل اے) کی دفعہ 66(2) کے تحت انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے ذریعہ شیئر کردہ معلومات کی بنیاد پر تحقیقات کی ہدایت دے کر غلطی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی کارروائی کا جواز صرف اس وقت ہوتا ہے جب موصول ہونے والی معلومات سے قابلِ سزا جرم کا پتہ چلتا ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے تاریخی وجے مدن لال چودھری فیصلے کا بھی حوالہ دیا۔