Jadid Khabar

غزہ میں جنگ بندی مستقل طور سے بحال کروائی جائے: گوتیرس

Thumb

اقوام متحدہ، 6 اکتوبر (یو این آئی) اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے 7 اکتوبر کی تیسری برسی سے قبل گفتگو کرتے ہوئے غزہ میں مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔
گوتیرس نے ایک سرکاری بیان میں کہا، "اب وقت آ گیا ہے کہ جنگ بندی کو مستقل کیا جائے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی اجازت دی جائے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ بین الاقوامی قانون کا احترام کیا جائے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ "پورے خطے میں پائیدار امن کے لیے ایک سیاسی راستہ تلاش کرے۔
گوتیرس نے اس بات پر زور دیا کہ یہ برسی صرف سوگ منانے سے بڑھ کر ہونی چاہیے "اس برسی کو نہ صرف سوگ کا ایک اور سال قرار دیا جائے، بلکہ ایک مختلف مستقبل کی تعمیر کے لیے ایک نئے عزم کا نشان بھی بنایا جائے، ایک ایسا مستقبل جس میں اسرائیلی اور فلسطینی امن اور سلامتی کے ساتھ اپنے حقوق، وقار اور امنگوں کی تکمیل کے ساتھ شانہ بشانہ رہ سکیں۔"
گوتیرس نے کہا کہ فلسطینیوں نے بڑے پیمانے پر جانی نقصان، نقل مکانی اور تباہی" برداشت کی ہے، ان کے مصائب کا بھی اب خاتمہ ہونا چاہیے۔
اس محصور علاقے میں اسرائیل کی برسوں پر محیط نسل کشی کی جنگ میں 74,200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
گوتیرس نے اعتراف کیا کہ اکتوبر 2025 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں ہونے والی عارضی جنگ بندی سے محدود ریلیف ملا، لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ابھی تک سیکیورٹی، مناسب انسانی امداد یا بحالی اور امن کا کوئی معتبر راستہ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
اکتوبر 2023 سے، اسرائیل نے خطے میں اپنی جنگوں کو وسعت دی ہے، جنوبی لبنان پر حملہ کیا ہے اور فروری کے آخر میں امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف براہِ راست مسلح تصادم میں داخل ہوا ہے۔