Jadid Khabar

گیانیش کمار کے خلاف دہلی اور ممبئی میں زبردست احتجاج

Thumb

نئی دہلی 2اکتوبر:چیف الیکشن کمشنر گیا نیش کمار کے خلاف آج دہلی اور ممبئی میں زبردست احتجاج ہوا۔اس احتجاج کا اعلان آج گاندھی جینتی کے موقع پر دہلی میں بائیں بازوں کی تنظیموں اور شہری حقوق کے کارکنوں نے کیا تھاجب کہ ممبئی اس احتجاج کا اعلان کاکروچ جنتا پارٹی کی طرف سے کیا گیا تھا۔ایک طرف جہاں دہلی میں جنتر منتر پر اس احتجاج کو روکنے کے لئے تمام پیش بندیاں کی گئی تھی تو ممبئی میں بھی اس کی ناکا بندی کرلی گئی تھی لیکن مظاہرین کسی نہ کسی طرح احتجاج کی جگہ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے اور پولیس نے انہیں حراست میں لیا۔دہلی میں جنتر منتر تک پہنچنے والے تمام راستے مسدود کردیئے گئے تھے اور جنتر منتر کو جوڑنے والے تمام میٹرو اسٹیشن بند تھے۔لیکن مظاہرین پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔دہلی کے مظاہرے میں بائیں بازوں کی تنظیموں اور شہری حقوق کے کارکنوں کے علاوہ عام آدمی پارٹی کے لیڈران بھی شریک ہوئے۔اس احتجاج کا فوکس آئیسا کی صدر نیہا بورارہیں۔
دریں اثناء دہلی پولیس نے جمعہ کے روز جنتر منتر پر چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے دوران عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے رہنماؤں سوربھ بھاردواج، سنجیو جھا، آتشی سمیت بڑی تعداد میں مظاہرین کو حراست میں لے لیا، جن میں طلبہ لیڈر اور سماجی کارکنان بھی شامل ہیں۔
اے اے پی لیڈران، آئیسا، ایس ایف آئی، این ایس یو آئی اور دیگر طلبہ تنظیموں سمیت سو سے زائد مظاہرین کو جنتر منتر اور اس کے اطراف سے حراست میں لیا گیا۔
احتجاج کے دوران حراست میں لیے جانے کے بعد سماجی کارکن یوگیندر یادو نے کہا کہ گاندھی جینتی پر اس ملک نے ایک انوکھا اور خوفناک دن دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے وہی کیا جو انگریز حکومت کیا کرتی تھی اور اس ملک کی عوام نے وہی کیا جو ہمارے مجاہدینِ آزادی کیا کرتے تھے۔ حکومت نے جبر کیا، پولیس راج قائم کیا، بربریت کی، بولنے کی اجازت نہیں دی لیکن دہلی اور ملک کے کونے کونے سے لوگ آئے۔ انہوں نے کہا کہ گیانیش کمار کے خلاف پارلیمنٹ میں مواخذے کی کارروائی شروع نہیں کی گئی تو اس ملک کی سڑکوں پر مواخذہ چلے گا۔
انہوں نے کہا کہ آج جنتر منتر سے 'چیف الیکشن ملزم' کے خلاف مواخذے کا آغاز ہوچکا ہے۔
مسٹر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ پرامن احتجاج کے باوجود انہیں اور سنجیو جھا کو حراست میں لیا گیا۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں اور حامیوں سے تحریک جاری رکھنے اور جنتر منتر پہنچنے کی اپیل کی۔
ایس ایف آئی کی طلبہ رہنما آئیشی گھوش نے کہا کہ ڈی وائی ایف آئی اور ایس ایف آئی کے کئی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے پولیس کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حراست میں لے کر تحریک کو روکا نہیں جا سکتا اور یہ تحریک کی محض شروعات ہے۔
دریں اثناء نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کے قومی صدر ونود جاکھڑ کی قیادت میں تنظیم نے جمعہ کے روز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ اور گرفتاری کے مطالبے کو لے کر احتجاج کیا۔
این ایس یو آئی کارکنوں نے 5، رائے سینا روڈ پر واقع تنظیم کے ہیڈکوارٹر سے جنتر منتر کی طرف مارچ کیا۔ مارچ میں سینکڑوں کارکن شامل ہوئے۔ مظاہرین نے انتخابی عمل میں شفافیت اور جواب دہی اور ووٹر فہرستوں و انتخابات کے انعقاد سے جڑے امور پر الیکشن کمیشن سے جواب دینے کا مطالبہ کیا۔
جنتر منتر کی طرف بڑھ رہے مظاہرین کو روکنے کے لیے دہلی پولیس نے بیری کیڈنگ کی، جس کے بعد پولیس نے مسٹرجاکھڑ سمیت سینکڑوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ حراست میں لیے جانے سے پہلے مسٹرجاکھڑ نے کہا کہ طلبہ کو حراست میں لے کر جمہوریت کی آواز کو نہیں دبایا جا سکتا۔ انہوں نے انتخابی عمل سے جڑے سوالات کے جوابات عوامی سطح پر دینے کا مطالبہ کیا۔