لکھنؤ، 2 اکتوبر (یو این آئی) سماج وادی پارٹی کی جانب سے راجیہ سبھا کے دو سالہ انتخابات میں صنعت کار دھن راج پریمل ناتھ وانی کو امیدوار بنائے جانے کے چند دن بعد بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے سماج وادی پارٹی پر اقرباپروری اور دولت کی طاقت کے استعمال کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ایس پی خود کو سوشلسٹ اور پی ڈی اے پارٹی کہتی ہے، لیکن انتخابات میں اس کا طرز عمل اس کے برعکس ہے۔
مایاوتی نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سلسلہ وار پوسٹوں میں کہا کہ بی ایس پی کسی بھی انتخاب میں، خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا، بڑے سرمایہ داروں اور دولت مند افراد کو ٹکٹ نہیں دیتی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں، خاص طور پر ایس پی کے برعکس، ان کی مالی طاقت پر انحصار نہیں کرتی۔
انہوں نے کہا کہ بی ایس پی غریب، متوسط طبقے اور سماج کے کمزور طبقات میں سے صرف محنتی امبیڈکری امیدواروں کو میدان میں اتارتی ہے۔
ایس پی کو نشانہ بناتے ہوئے بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ ایس پی اس کے بالکل برعکس کرتی ہے اور خود کو سوشلسٹ اور نام نہاد پی ڈی اے پارٹی ظاہر کرتی ہے۔
راجیہ سبھا انتخابات میں ایس پی کی جانب سے پروفیسر رام گوپال یادو کو دوبارہ امیدوار بنائے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ایس پی سربراہ کے قریبی رشتہ دار ہیں۔
مایاوتی نے ایس پی کے دوسرے امیدوار دھن راج پریمل ناتھ وانی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کا تعلق ایک معروف کاروباری خاندان سے ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لوگوں کا ماننا ہے کہ ایس پی کا تیسرا امیدوار بھی پہلے کی طرح صرف اپنی عزت بچانے کے لیے میدان میں اتارا جا سکتا ہے اور وہ انتخاب ہار سکتا ہے۔
محترمہ مایاوتی نے کہا کہ عوام کو ''پی ڈی اے'' اور سوشلزم کے نام پر ایس پی کو ووٹ دینے سے پہلے اس کے طرز عمل پر غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی زیادہ تر ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کے عہدوں کے لیے اپنے خاندان کے افراد اور بڑے سرمایہ داروں کو ترجیح دیتی ہے۔
بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ ایس پی کا یہ دوہرا معیار کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ طویل عرصے سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر اتر پردیش کے غریبوں اور بہوجن سماج، یعنی دلتوں، قبائلیوں، انتہائی پسماندہ طبقات، مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں سے اپیل کی کہ وہ اسمبلی انتخابات سے قبل چوکس رہیں۔
محترمہ مایاوتی نے کہا کہ ان طبقات کے مفادات امبیڈکری بی ایس پی میں محفوظ اور مستحکم ہیں، جب کہ باقی سب کچھ سیاسی دکھاوا ہے۔