نئی دہلی، 19 ستمبر (یو این آئی) وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ہندوستان نے پیرس میں کاپ-21 کے دوران طے کیے گئے تمام موسمیاتی اہداف کو وقت سے پہلے حاصل کر لیا ہے اور ایسا کرنے والا وہ جی 20 گروپ کا پہلا ملک ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ غیر رکازی ایندھن ، شمسی توانائی اور کاربن کے اخراج میں کمی سمیت ماحولیات سے جڑے کئی شعبوں میں ملک نے گزشتہ 12 سالوں میں بڑی پیشرفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی شمسی توانائی کی صلاحیت 12 سال پہلے تقریباً دو گیگا واٹ تھی، جو اب 160 گیگا واٹ سے زیادہ ہو گئی ہے۔ پی ایم سوریہ گھر یوجنا کے تحت 50 لاکھ سے زیادہ گھروں میں روف ٹاپ سولر پینل لگائے گئے ہیں، جبکہ کسم یوجنا کے تحت 30 لاکھ کسانوں کے کھیتوں میں سولر پمپ لگائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 سال میں ملک کی ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی کی صلاحیت تین گنا بڑھی ہے اور غیر رکازی ایندھن کی صلاحیت تقریباً چار گنا ہوئی ہے۔ اس دوران الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں بھی تقریباً 950 گنا اضافہ ہوا ہے۔ وزیراعظم کے مطابق، 2014 سے پہلے 3,000 سے کم ای وی فروخت ہوئی تھیں ، جبکہ گزشتہ سال تقریباً 25 لاکھ ای وی کی فروخت ہوئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ریلوے کی تقریباً سو فیصد برق کاری ہو چکی ہے اور تقریباً 3,000 کلومیٹر طویل ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور سے مال برداری میں ماحولیات کو فائدہ مل رہا ہے۔ ملک میں تقریباً 5,000 کلومیٹر طویل آبی گزرگاہوں پر بھی نقل و حمل شروع ہو چکی ہے۔ مسٹر مودی نے کہا، "ہندوستان جی20 میں واحد ایسا ملک ہے جس نے پیرس میں کاپ-21 سمٹ میں جو بھی وعدے کیے تھے، ان سارے وعدوں کو وقت سے پہلے پورا کر کے دکھایا ہے۔ یہ ہندوستان کی طاقت کی میں بات کر رہا ہوں۔"
انہوں نے آبی تحفظ کے شعبے میں 70,000 سے زیادہ امرت سرور اور تقریباً ڈیڑھ کروڑ واٹر ہارویسٹنگ اسٹرکچر بنائے جانے کی معلومات دی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 سال میں گھنے جنگلاتی رقبے میں 22 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ مسٹر مودی نے کہا کہ یہ اعداد و شمار صرف ہندوستان کی ترقی کے نہیں، بلکہ انسانیت کے مستقبل میں ہندوستان کے تعاون کے بھی اعداد و شمار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اپنے روایتی ماحولیاتی خیالات کو جدید نقطہ نظر سے جوڑتے ہوئے ذمہ دارانہ اور پائیدار مستقبل کے لیے کام کر رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے