نئی دہلی، 18 ستمبر (یو این آئی) وزیرِ دفاع راجناتھ سنگھ نے جمعہ کو کہا کہ حکومت 'وکسِت بھارت 2047' کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے شہریوں میں پختہ عزم، ہمدردی، جدت طرازی، طاقت، خود اعتمادی اور قومی شناخت کے احساس کو مضبوط کرنے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔
مسٹر سنگھ نے آج کوچی میں ایک پروگرام میں کہا کہ ملک اپنی صدیوں پرانی روایتوں اور قدروں سے ترغیب لیتے ہوئے ترقی کی راہ پر آگے بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ 12 برسوں میں ہندوستان نے مشکل حالات کا خود اعتمادی کے ساتھ سامنا کیا اور چیلنجوں کو مواقع میں بدلا۔ کووڈ-19 وبا اور مختلف جنگوں کی وجہ سے عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات کے باوجود ہندوستان خود کفیل اور ترقی یافتہ قوم بننے کی سمت میں مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ شہریوں کی سکیورٹی اور ملک کی سالمیت و خود مختاری کا تحفظ حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے 'آپریشن سندور' کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ملک کے لیے خطرہ پیدا کرنے والوں کے خلاف سرحد پار جا کر کارروائی کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ نکسلی انتہاپسندی کو ختم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی دیسی دفاعی پیداوار 2014 کے تقریباً 40,000 کروڑ روپے سے بڑھ کر قریب 1.80 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی ہے۔ دفاعی برآمدات بھی تقریباً 600 کروڑ روپے سے بڑھ کر قریب 40,000 کروڑ روپے ہو گئی ہیں اور ہندوستان میں بنے دفاعی سامان تقریباً 100 ملکوں تک پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو ملک کی سب سے بڑی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسٹارٹ اپس، یونیکورنز، ڈرون، ہائیڈروجن ٹرین، راکٹ اور سیٹلائٹ تیار کر کے ہندوستان کو ترقی یافتہ ملک بنانے میں اپنا تعاون دے رہے ہیں۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ حکومت لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہے اور گزشتہ 10 سے 12 برسوں میں 25 کروڑ سے زائد لوگ غربت سے باہر نکلے ہیں۔ انہوں نے یو پی آئی سمیت پی ایم شری، آیوشمان بھارت، لکھپتی دیدی، پی ایم آواس یوجنا، جل جیون مشن اور اجولا یوجنا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان سے ترقی مزید جامع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے کئی اہداف وقت سے پہلے حاصل کیے ہیں۔ کووڈ-19 کے دوران ملک میں لوگوں کو مفت ویکسین فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ 100 ملکوں کو 30 کروڑ سے زیادہ خوراکیں بھیجی گئیں۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ ہندوستان کا ترقیاتی سفر صرف اقتصادی پیش رفت تک محدود نہیں ہے، بلکہ قومی خود اعتمادی کو مضبوط کرنے اور نوآبادیاتی ذہنیت سے آگے بڑھنے سے بھی جڑا ہے۔ انہوں نے ثقافتی اور تہذیبی ورثے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی جدید کاری ثقافتی روایتوں کے احترام کے ساتھ آگے بڑھنی چاہیے۔ انہوں نے نوجوانوں سے ہندوستان کی تاریخ، ثقافت اور ورثے کے بارے میں باخبر رہنے اور ملک کی اقتصادی، سماجی اور ٹیکنالوجی کی تبدیلی میں اپنا تعاون دینے کی اپیل کی۔
میڈیا کے کردار پر مسٹر سنگھ نے کہا کہ صحافت جمہوریت کا چوتھا ستون ہے اور آزاد نیز غیر جانبدار پریس جوابدہی کو یقینی بنانے کا مضبوط ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کا کام صرف خبریں دینا نہیں، بلکہ سخت سوالات پوچھنا، سچائی لوگوں کے سامنے لانا اور اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو جوابدہ بنانا بھی ہے۔