Jadid Khabar

'پارٹی چوری کے بعد ووٹ چوری' حیرانی کی بات نہیں: راہل

Thumb

نئی دہلی، 18 ستمبر (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی  اورکانگریس صدرملکارجن  کھرگے نے ترنمول کانگریس کے نام اور انتخابی نشان کو فریز کرنے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے طنز کیا اور کہا کہ جب 'پوری کی پوری پارٹی' چوری ہو سکتی ہے تو کروڑوں ہندوستانیوں کے ووٹ چوری ہونا بھی حیرانی کی بات نہیں ہے۔

راہل اور کھرگے نے جمعہ کو سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ پہلے شیو سینا، پھر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اور اب ترنمول کانگریس میں ایک ہی پیٹرن دکھائی دیتا ہے- بی جے پی اور الیکشن کمیشن مل کر ایک پارٹی کو توڑتے ہیں اور پھر اس کا انتخابی نشان چھین لیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، "ووٹ چوری۔ حکومت چوری۔ اب پارٹی چوری-یہ ہمارے جمہوری زوال کی علامت بن گئے ہیں۔"
الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری عوام کے فیصلے کی حفاظت کرنا بتاتے ہوئے راہل اور کھرگے نے کہا کہ اس کے برعکس کمیشن ان طاقتوں کی مدد کر رہا ہے جو عوام کے فیصلے کو ہی پلٹ دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی صرف محترمہ ممتا بنرجی کی نہیں بلکہ ہر سیاسی جماعت اور ہر ووٹر کی ہے جو آزادانہ اور منصفانہ انتخابات چاہتا ہے۔
اس سے پہلے پارٹی کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے جمعرات کی دیر رات اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حمایت سے ترنمول کانگریس کے نام اور انتخابی نشان کو فریز کیا گیا ہے۔ ایسا کر کے محترمہ ممتا بنرجی کی قیادت میں بی جے پی کے خلاف لڑنے والے لوگوں کو ان سے بغاوت کرنے اور دل بدل کرنے کا راستہ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن پر بی جے پی کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بننے کا الزام بھی لگایا اور کہا تھا کہ جمہوریت کو آہستہ آہستہ کمزور کرنے کے لیے کمیشن کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
کانگریس قائد نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے محترمہ ممتا بنرجی کو ترنمول کانگریس کا نام اور انتخابی نشان فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔