پشکر سنگھ دھامی حکومت نے یو جے وی این-ٹی ایچ ڈی سی کے مجوزہ پروجیکٹ کو کیوں ختم کیا؟
84 ٹنڈر شرائط میں تبدیلی کیوں کی گئی؟
کیا یہ ٹنڈر ایک شخص کو فائدہ پہنچانے کے لیے تیار کیا گیا تھا؟
ایسی شرط کیوں رکھی گئی کہ پاور پلانٹ اتراکھنڈ کے باہر بھی لگایا جا سکتا ہے؟
اڈانی پاور کو 25 سال تک ’پاور پرچیز ایگریمنٹ‘ کیوں دیا گیا؟
’موڈانی ماڈل‘ کو کامیاب کرنے کے لیے اتنے اصول کیوں توڑے گئے؟
یہ سوالات کانگریس کے سینئر لیڈر اور ترجمان پون کھیڑا نے آج کانگریس ہیڈکوارٹر میں منعقد ایک پریس کانفرنس میں اٹھائے ہیں۔ انھوں نے اتراکھنڈ کی پشکر سنگھ دھامی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ اڈانی کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں، اس لیے یو جے وی این-ٹی ایچ ڈی سی سے متعلق مجوزہ پروجیکٹ کو ختم کر دیا گیا اور اڈانی پاور کو 25 سال تک کے لیے ’پاور پرچیز ایگریمنٹ‘ فراہم کر دیا گیا۔
میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے پون کھیڑا نے کہا کہ ’’پشکر سیلنگ اتراکھنڈ (پشکر اتراکھنڈ کو فروخت کر رہے ہیں)، ہم ایسی بات کیوں کر رہے ہیں، وہ آپ کو سمجھ میں جلد آ جائے گا۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’ٹی-20 کرکٹ ٹیم کی طرح ہی بی جے پی کے پاس بھی ایک ’420 ٹیم‘ ہے۔ بی جے پی کی اس ٹیم نے 86 اصولوں میں سے 84 اصول تبدیل کر دیے۔ پھر ان بدلے ہوئے اصولوں کی بنیاد پر ٹنڈر کے عمل کو بدلا گیا اور کام اڈانی کو سونپ دیا گیا۔ یعنی ایک بار پھر سے ’گوتم شرنم گچھامی‘ ہو گیا۔‘‘
اس ٹنڈر سے متعلق تفصیل بیان کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’2024 میں وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے کوئلہ وزیر کو ایک تجویز بھیجی کہ ہم جوائنٹ ونچر کے تحت 1320 میگا واٹ کا تھرمل پاور پلانٹ لگائیں گے۔ یہ جوائنٹ ونچر (یو جے وی این-ٹی ایچ ڈی سی) کا ہوگا، جو راؤنڈ دی کلاک کام کرے گا تاکہ ریاست میں بجلی سپلائی کم نہ ہو۔‘‘ وہ مزید بتاتے ہیں کہ ’’وزیر اعلیٰ دھامی نے حکومت ہند کے کوئلہ وزیر کو کوئلہ سپلائی کے لیے بھی خط لکھا۔ 6 ماہ بعد کوئلہ وزیر کی طرف سے اس پلانٹ کے لیے منظوری مل گئی۔ لیکن 16 جنوری 2025 کو اچانک اتراکھنڈ حکومت نے اس جوائنٹ ونچر کو رد کر دیا۔‘‘ انھوں نے اس بات پر حیرانی ظاہر کی کہ اس ونچر کو رد کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا گیا کہ ونچر کم وقت پر کام پورا نہیں کر پائے گا، جبکہ جوائنٹ ونچر کی طرف سے کہا گیا تھا کہ ہم کام پورا کر لیں گے۔
اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے پون کھیڑا کہتے ہیں ’’3 فروری 2025 کو اتراکھنڈ حکومت نے ایک ٹنڈر نکالا۔ اسی دن اڈانی پاور نے چھتیس گڑھ میں کوربا ایکسپینشن کے لیے ماحولیاتی کلیئرنس کے لیے درخواست ڈال دی۔ اس کے بعد ٹنڈر نکالنے والی یو پی سی ایل ایک خط لکھتی ہے اور 86 شرطوں میں سے 84 شرطیں بدلنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ نتیجۂ کار 86 میں سے 84 شرطیں بدل دی گئیں۔‘‘ بدلی گئی کچھ شرطوں کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ ’’1320 میگاواٹ بجلی ایک ہی بولی لگانے والی کی طرف سے آنی چاہیے۔ پلانٹ ملک کے کسی بھی گوشے میں ہو سکتا ہے، اس کا اتراکھنڈ میں ہونا لازمی نہیں ہے۔ شفٹنگ کا خرچ اتراکھنڈ کی عوام ادا کرے گی۔‘‘