Jadid Khabar

گوئل نے برکس ممالک کے درمیان مارکیٹ تک رسائی بڑھانے پر زور دیا

Thumb

نئی دہلی، 11 ستمبر (یواین آئی)  تجارت و صنعت کے وزیر پیوش گوئل نے جمعہ کو برکس ممالک کے درمیان مارکیٹ تک رسائی بڑھانے، سپلائی چین کو مضبوط بنانے اور ایک دوسرے کی پیشہ ورانہ ڈگریوں کو تسلیم کرنے کی اپیل کی۔

گوئل نے یہاں بھارت منڈپم میں برکس بزنس فورم کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی تجارت میں برکس ممالک کی مجموعی حصہ داری تقریباً ایک چوتھائی ہے۔ انہوں نے اقتصادی تعاون کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے مارکیٹ تک زیادہ رسائی، سپلائی چین میں تنوع اور قواعد و ضوابط کو آسان بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

اجلاس سے روس کے اقتصادی ترقی کے وزیر میکسم ریشیتنکوف، ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر، تجارت و صنعت کے وزیر مملکت جتن پرساد اور تجارت کے سکریٹری راجیش اگروال نے بھی خطاب کیا۔

گوئل نے کہا کہ باہمی تجارت میں ہندوستان برکس ممالک کے لیے ایک ناگزیر ستون ہے۔ انہوں نے انجینئرنگ مصنوعات، الیکٹرانکس اور فارما شعبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ان سمیت دیگر مصنوعات کے لیے برکس کو ایک اہم مارکیٹ کے طور پر دیکھتا ہے۔ انہوں نے برکس ممالک سے ایک دوسرے کی مصنوعات، بشمول خام مال اور اہم معدنیات، کے لیے اپنی مارکیٹیں کھولنے کی اپیل کی۔

انہوں نے کہا کہ سپلائی چین اسی وقت مضبوط ہوں گی جب وہ دو طرفہ ہوں گی۔ مارکیٹ تک آسان رسائی کی وکالت کرتے ہوئے گوئل نے برکس کے رکن اور شراکت دار ممالک سے اپنی مارکیٹیں کھولنے اور ضابطہ جاتی عمل کو آسان بنانے کی اپیل کی۔

تجارت و صنعت کے وزیر نے برکس ممالک سے زرعی شعبے میں تعاون بڑھانے، ایگری ٹیک اسٹارٹ اپس کو فروغ دینے، خدمات کے شعبے کو ایک دوسرے کے لیے کھولنے، سرحد پار پیشہ ور افراد کی آمدورفت آسان بنانے اور ایک دوسرے کی پیشہ ورانہ ڈگریوں کو تسلیم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس بزنس فورم سے برکس کے اندر تجارت اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تعمیری تجاویز سامنے آئیں گی۔

ڈاکٹر ایس جے شنکر نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس سال برکس کے ادارہ جاتی تعاون کے 20 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ اس دوران برکس کی رکنیت، ایجنڈے اور تعاون کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلی اور ترقی ہوئی ہے۔ سربراہی اجلاس کے موضوع 'لچک، اختراع، تعاون اور پائیداری' کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ترجیحات اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ عالمی سیاسی اور اقتصادی نظام میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ عدم استحکام، غیر یقینی اور پیچیدگی اس کی نمایاں خصوصیات بن گئی ہیں، جبکہ جغرافیائی سیاسی تنازعات، وبائی امراض، موسمیاتی مسائل، ڈیجیٹلائزیشن اور تکنیکی ترقی اقتصادی منظرنامے کو تبدیل کر رہے ہیں۔

جتن پرساد نے اس بات کو اجاگر کیا کہ برکس بزنس فورم رکن ممالک کی طاقت کو ٹھوس کاروباری نتائج میں تبدیل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے تعاون کے ایک اہم شعبے کے طور پر ڈیجیٹل خدمات، بالخصوص مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر زور دیا۔ انہوں نے اے آئی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کے زیادہ تبادلے اور تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر مشن 2.0 کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے مکمل سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم تیار کرنے کے لیے تعاون کی اپیل کی۔

تجارت کے سکریٹری راجیش اگروال نے کہا کہ برکس ایک اہم اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا بازار ہے۔ رکن ممالک کے درمیان تجارت 2003 میں 84 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2024 میں تقریباً 1.2 کھرب ڈالر ہوگئی ہے۔ انہوں نے کثیر سطحی تجارتی نظام کو برقرار رکھنے اور اسے مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے سستے ورکنگ کیپیٹل کے ذریعے چھوٹی ، انتہائی چھوٹی اور درمیانہ درجہ کی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) کی مدد کرنے کی بات کہی۔