Jadid Khabar

سہارنپور مسجد تنازعہ میں اے ایس آئی کی انٹری، انہدامی کارروائی کے بعد دریافت کنویں کا لیا نمونہ

Thumb

سہارنپور کلکٹریٹ احاطہ میں مجسد کے انہدام کے بعد ملبے کے نیچے تقریباً 20 فیٹ گہرا اور 1.5 میٹر چوڑا کنواں دریافت ہوا۔ اس کے بعد اب آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کی ٹیم کنویں کا معائنہ کرنے پہنچی اور اس نے نمونے لیے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کنواں کتنا پرانا ہے۔ فریقین کے درمیان اس بات کو لے کر تنازعہ ہے کہ یہ کنواں کس فریق سے متعلق ہے۔ اسی تنازعہ کے پیش نظر انتظامیہ نے اے ایس آئی کی ٹیم کو جانچ کے لیے بلایا ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ کنویں کو بند کرنے کے بعد اس کے اوپر مسجد تعمیر کی گئی تھی۔ اس سے یہ مانا جا رہا ہے کہ کنواں مسجد سے پہلے کا ہے۔ اب اہم سوال یہ ہے کہ یہاں کنواں کتنے سال پرانا ہے اور اسے کس نے بنوایا تھا۔ اے ایس آئی کی جانچ کے بعد ان سوالوں کے جواب ملنے کی امید ہے۔ واضح رہے کہ کنویں کی جانچ کے دوران اے ایس آئی ٹیم کے ساتھ سٹی مجسٹریٹ بھی موجود تھے، جنہوں نے مسجد سے متعلق حکم جاری کیا تھا۔ اس سے قبل کلکٹریٹ احاطہ میں موجود کنویں کی نگرانی کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے۔ کنویں کے آس پاس ہونے والی ہر سرگرمی پر اب کیمروں کے ذریعہ نظر رکھی جائے گی۔ کنویں سے متعلق موجود شواہد کے ساتھ کسی طرح کی چھیڑ چھاڑ نہ ہو، اس کی بھی کیمروں کے ذریعہ مسلسل نگرانی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ سہارنپور کلکٹریٹ احاطہ میں موجود مجسد کے انہدام کے بعد ملبہ ہٹاتے وقت ایک سلیب دکھائی دیا، جسے کٹر سے کاٹنے کے بعد اس کے نیچے سے کنواں ملا۔ کنواں ملنے کے فوراً بعد سہارنپور کے سب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سبودھ کمار موقع پر پہنچے اور کنویں کی عمر اور تاریخ کا پتہ لگانے کے لیے اے ایس آئی کو مطلع کیا۔ کنواں ملنے کے بعد افسران نے بتایا کہ کلکٹریٹ احاطہ میں پولیس فورس تعینات ہے اور لوگوں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 2025 میں بجرنگ دل کے علاقائی کنوینر وکاس تیاگی نے سٹی مجسٹریٹ کی عدالت میں ایک عرضی داخل کر الزام عائد کیا تھا کہ کلکٹریٹ احاطہ میں تعمیر مسجد غیر قانونی ہے۔ اس کے بعد سہارنپور کے سٹی مجسٹریٹ نے ڈھانچے کو غیر قانونی قرار دیا اور اسے گرانے کا حکم جاری کیا تھا۔