نئی دہلی، 7 ستمبر (یواین آئی) مرکزی وزیر برائے تجارت و صنعت پیوش گوئل نے ملک میں اعلیٰ معیار کے میڈیکل ٹورزم (طبی و سیاحتی) ماحولیاتی نظام کو وسعت دینے اور اسے اعلیٰ ترین معیار کے ساتھ بین الاقوامی صحت اور فلاح و بہبود کی خدمات کے لیے ایک گیٹ وے کے طور پر قائم کرنے کے مقصد سے پیر کو پانچ نکاتی منصوبہ پیش کیا، جس میں انہوں نے ہنرمندی کی ترقی کو سب سے زیادہ ترجیح دی۔
مسٹر گوئل نے دارالحکومت میں بھارت ہیلتھ گلوبل ایکسپو-2026 کے تحت منعقدہ 'سنجیونی' پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے طبی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے پانچ نکاتی منصوبہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں پہلی ترجیح مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں (کیئر گیورز) کو تربیت دینا اور انہیں باقاعدہ طور پر سرٹیفائیڈ کرنا ہے۔ اس شعبے کو ایسا ہنرمند افرادی قوت تیار کرنا چاہیے جو بین الاقوامی معیار کے مطابق صحت کی خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
انہوں نے دوسرے نکتے کے طور پر زیادہ سے زیادہ اسپتالوں کو 'ہیل اِن انڈیا' گیٹ وے سے منسلک ہونے کی ترغیب دینے اور علاج کے پیکیجز کو ایمانداری، اخلاقیات اور شفافیت کے ساتھ شائع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں دھوکہ دہی یا کسی بھی طرح کی ایک غلط کارروائی بھی ملک کی ساکھ، کاروبار اور اعتماد کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
تیسرے نکتے کے طور پر مسٹر گوئل نے انشورنس کمپنیوں اور ہیلتھ ٹیک کمپنیوں سے ایسے مصنوعات اور پلیٹ فارم تیار کرنے کی اپیل کی۔ چوتھے نکتے کے طور پر انہوں نے دنیا بھر میں نمائشوں اور پریزنٹیشنز کے انعقاد، سہولت کاروں (فیسلیٹیٹرز) کا نیٹ ورک قائم کرنے اور عالمی سطح پر اسپتالوں کے ساتھ شراکت داری اور معاہدے کرنے کی تجویز دی۔
پانچویں نکتے کے طور پر وزیر نے ریاستی حکومتوں کو مشورہ دیا کہ وہ اسپتالوں اور ویلنس مراکز میں معیار پر توجہ مرکوز کریں، ان کے نیٹ ورک کو وسعت دیں، معیاری طبی سہولیات کو عالمی سطح پر شناخت دلائیں اور مریضوں کی فلاح و بہبود کے لیے ان سہولیات کی مؤثر تشہیر کریں۔
انہوں نے کہا کہ طبی سیاحت کی سہولیات کو چھوٹے اور درمیانے درجے کے شہروں تک بھی پہنچایا جانا چاہیے۔ اس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، نئی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستانی مریضوں کے لیے بھی صحت کی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔