Jadid Khabar

’آیوشمان یوجنا‘ کے نام پر عوام کو گمراہ کر رہی ہے مودی حکومت: کماری شیلجا

Thumb

کانگریس رکن پارلیمنٹ کماری شیلجا نے ہریانہ کی بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت ’آیوشمان یوجنا‘ کے نام پر بڑے بڑے دعوے کر کے عوام کو گمراہ کر رہی ہے، جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ ریاست کا نظام صحت خود سنگین بحران سے گزر رہا ہے۔ ہندی نیوز پورٹل ’خاص خبر‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق کانگریس لیڈر کا کہنا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں مناسب تعداد میں ڈاکٹر، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر ملازمین نہیں ہیں۔ صحت کی خدمات کو الگ الگ محکموں اور مشنوں میں تقسیم کر دیا گیا، لیکن محکمہ آیوش اور قومی صحت مشن جیسے اہم نظاموں میں بڑی تعداد میں ملازمین عارضی طور پر  کام کر رہے ہیں۔

کماری شیلجا کا کہنا ہے کہ دستیاب محکمہ جاتی اعداد و شمار کے مطابق محکمہ صحت میں منظور شدہ عہدوں کے مقابلے 20403 مستقل ملازمین ہیں، جبکہ مختلف زمروں میں 47 ہزار سے زائد عارضی ملازمین کام کر رہے ہیں۔ قومی صحت مشن میں تقریباً 14468، طبی تعلیم و تحقیق میں 7398 اور محکمہ آیوش میں 2234 ملازمین کنٹریکٹ یا دیگر عارضی انتظامات کے تحت بتائے جا رہے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ جس حکومت کے پاس اپنے نظام صحت کو مضبوط کرنے کے لیے مناسب تعداد میں مستقل ملازمین نہیں ہیں وہ ریاست کے لوگوں کو بہتر صحت کی سہولیات فراہم کرنے کا دعویٰ کس بنیاد پر کر رہی ہے۔
کانگریس لیڈر کے مطابق ’آیوش یوجنا‘ کے تحت پرائیویٹ اسپتالوں کے تقریباً 1200 کروڑ روپے کی ادائیگی باقی ہونے کا دعویٰ طبی تنظیموں کی جانب سے کی گئی ہے۔ اسی ادائیگی تنازعہ کے باعث یکم ستمبر کو پرائیویٹ اسپتالوں کی علامتی ہڑتال کا اثر آیوشمان کارڈ ہولڈرز پر پڑا اور کئی جگہوں پر نئے مریضوں کو بھرتی کرنے اور طے شدہ آپریشن کرنے میں دشواری پیش آئی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ اسپتالوں نے ادائیگی نہ ہونے پر 15 ستمبر کے بعد غیر معینہ مدت کے لیے خدمات روکنے کی وارننگ بھی دی ہے۔ حکومت کو بتانا چاہیے کہ اگر سرکاری اسپتالوں میں مناسب تعداد میں اسٹاف اور وسائل نہیں ہیں اور پرائیویٹ اسپتالوں کو بھی وقت پر ادائیگی نہیں ہوگی تو غریب مریض آخر علاج کے لیے کہاں جائے گا؟
دوسری جانب کماری شیلجا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’ہریانہ میں بی جے پی حکومت کے ’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘ کے دعووں کی قلعی سرکاری اعداد و شمار سے کھیل رہی ہے۔ 2025 میں پیدائش کے وقت جنسی تناسب 923 تھا، جو جون 2026 تک گر کر 900 رہ گیا۔ چرکھی دادری میں یہ اعداد و شمار 829 تک پہنچ گیا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہریانہ اسٹیٹ چائلڈ رائٹس پروٹیکشن کمیشن میں اگرچہ صدر کا عہدہ پُر کر دیا گیا ہے لیکن 6 اراکین کے عہدے دسمبر 2025 سے خالی پڑے ہیں۔ بیٹیوں سے منسلک اتنے سنگین حالات کے درمیان اہم عہدوں کو مہینوں تک خالی رکھنا بی جے پی حکومت کی ترجیحات پر سوال کھڑا کرتا ہے۔‘‘