نیپال میں 26 اگست کو آنے والے شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ اس حادثہ کے آٹھویں دن بھی راحت اور بچاؤ کا کام زور و شور سے چل رہا ہے اور ملبہ سے اب بھی لاشوں کے نکلنے کا سلسلہ جاری ہے۔ نیپال پولیس کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق منگل کی شب 8 بجے تک اس آفت میں 1093 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 4 ہزار سے زیادہ لوگ اب بھی لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں بدھ کی صبح تک ہلاکتوں کی تعداد 1100 کو پار کر چکی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 26 اگست کو شمالی نیپال میں شدید بارش کے بعد کئی علاقوں میں اچانک سیلاب آ گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے پانی اور ملبے نے گاؤں اور قصبوں کو اپنی زد میں لے لیا۔ کئی مقامات پر گھر، سڑکیں اور دوسری عمارتیں ملبے میں دب گئیں۔ تباہی کے حالات کو دیکھ کر نیپال حکومت نے متاثرہ علاقے کو کم از کم 3 ماہ کے لیے آفت کے بحران کا علاقہ قرار دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے راحت اور بچاؤ کے لیے ضروری وسائل تیزی سے پہنچائے جا سکیں گے۔ ساتھ ہی راحتی ٹیموں کی تعیناتی بھی بہتر طریقے سے کی جا سکے گی۔
حکومت اب بچاؤ کے ساتھ راحت اور بازآبادکاری پر بھی زور دے رہی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں بڑی تعداد میں سیکورٹی اہلکار اور بچاؤ دستے تعینات کیے گئے ہیں۔ ٹیمیں مسلسل ملبے میں لوگوں کی تلاش کر رہی ہیں۔ لاپتہ افراد کے اہل خانہ اب بھی اپنوں کے واپس آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس درمیان ’چائنا میڈیا گروپ‘ کے ایک رپورٹر نے پیر کو ہیلی کاپٹر سے متاثرہ علاقے کا جائزہ لیا۔ یہ علاقہ چین-نیپال سرحد پر واقع گییرونگ-رسوا سرحدی چوکی کے نیپالی حصے میں ہے۔ آسمان سے لی گئی تصاویر میں تباہی کا بڑا منظر دکھائی دیا۔ اس رپورٹ کے مطابق سرحدی چوکی کے قریب نیپال کی طرف کئی گاؤں اور چھوٹے قصبے پوری طرح تباہ ہو گئے ہیں۔ کئی گاڑیاں اور عمارتیں گہرے ملبے میں دب گئی ہیں۔ جہاں کبھی لوگوں کی آمد و رفت رہتی تھی، وہاں اب چاروں طرف مٹی اور ملبہ نظر آ رہا ہے۔ کیچڑ سے علاقے میں دلدل جیسے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔
تباہی سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سیابر وبیسی بھی شامل ہے۔ یہ شہر سرحدی چوکی سے سیدھی دوری میں 10 کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر ہے۔ آفت سے پہلے یہاں کافی چہل پہل رہتی تھی۔ لیکن اب حالات پوری طرح بدل چکے ہیں۔ ہیلی کاپٹر سے علاقے کا جائزہ لینے والے رپورٹر کا کہنا ہے کہ شہر میں عام لوگوں کی موجودگی انتہائی کم دکھائی دی۔ وہاں صرف راحت اور بچاؤ دستے کے ارکان نظر آئے۔ یہ ٹیمیں ملبے میں زندگی کی تلاش کر رہی ہیں۔
8 دن گزرنے کے بعد بھی بچاؤ مہم رکی نہیں ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ چیلنج بڑھ رہا ہے۔ اس کے باوجود ریسکیو ٹیم کا سرچ آپریشن مستقل جاری ہے۔ غور طلب ہے کہ نیپال میں آئے اچانک سیلاب میں بہہ کر لاپتہ ہونے والے 5 نیپالی شہریوں کی لاشیں اتر پردیش کے کشی نگر ضلع میں گنڈک ندی سے برآمد ہوئی ہیں۔ منگل کو تمام لاشیں سونولی بارڈر پر نیپال پولیس کے حوالے کر دی گئیں۔ ہلاک ہونے والوں میں 2 خواتین اور 3 مرد شامل ہیں۔ یہ لاشیں کشی نگر کے بروا پٹی اور کھڈا علاقوں سے ملی تھیں۔ لاشوں کو شام تقریباً 4 بجے سونولی لایا گیا۔ اس کے بعد انہیں نیپال کے بیلہیا تھانے کے انچارج سب انسپکٹر ہری رام ڈانگی کے حوالے کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق لاشوں کو نیپال کے بٹول لے جایا گیا ہے۔ وہاں نیپال پولیس ہلاک شدگان کی شناخت کرے گی۔ اس کے بعد لاشیں ان کے اہل خانہ کے حوالے کی جائیں گی۔