Jadid Khabar

جے رام رمیش نے 7.8 فیصد جی ڈی پی نمو کے دعوے کو چیلنج کیا، سابق فنانس سکریٹری کے 2.6 فیصد تخمینے کا حوالہ دیا

Thumb

نئی دہلی، 2 ستمبر (یواین آئی) کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے بدھ کو نریندر مودی حکومت کے 7.8 فیصد جی ڈی پی نمو کے دعوے پر زبردست حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرخیوں والا عدد ہندوستان کی معیشت کی زمینی حقیقتوں کی عکاسی نہیں کرتا۔ انہوں نے سابق فنانس سکریٹری سبھاش چندر گرگ کے اندازے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اصل نمو 2.6 فیصد کے قریب ہو سکتی ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں، مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ حکومت معاشی کارکردگی کی مبالغہ آمیز تصویر پیش کرنے کے لیے شماریاتی پیش کش اور تشہیر کا استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، "مودی حکومت اپنی ٹیم اور میڈیا کے ذریعے شماریاتی ہیرا پھیری سے تیار کی گئی جعلی جی ڈی پی نمو کا جتنا زیادہ ڈھنڈورا پیٹے گی، اتنی ہی اس کی حقیقت سامنے آئے گی کیونکہ یہ زمینی حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔"

مسٹر رمیش نے خاص طور پر گرگ کے اندازے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے حساب سے ہندوستان کی اصل جی ڈی پی نمو تقریباً 2.6 فیصد ہے، جو سرکاری طور پر بتائے گئے 7.8 فیصد سے کافی کم ہے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ محض سازگار اعداد و شمار پیش کرنے سے مضبوط معاشی کارکردگی حاصل نہیں کی جا سکتی۔

انہوں نے کہا، "ایک مضبوط معیشت کا راستہ جھوٹ کی بنیاد پر بنائے گئے اعداد و شمار کو سجانے میں نہیں بلکہ سچائی کو تسلیم کرنے میں مضمر ہے۔" مسٹر رمیش نے دلیل دی کہ حکومت کو اس کے بجائے نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کرنے، مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز کو مضبوط بنانے، نجی سرمایہ کاری کو بحال کرنے، مانگ اور گھریلو آمدنی بڑھانے، معاشی عدم مساوات کو کم کرنے اور ان کے بقول "کرونی کیپٹلسٹس" کو فائدہ پہنچانے کے بجائے منصفانہ مسابقت کو یقینی بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔

ان کے یہ تبصرے  جی ڈی پی کے تازہ ترین اعداد و شمار کی تشریح پر بڑھتی ہوئی سیاسی بحث کے درمیان آئے ہیں، جس میں حکومت نے بتائی گئی 7.8 فیصد نمو کو عالمی معاشی اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ہندوستان کی معیشت کی لچک اور مسلسل رفتار کے ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے۔ تاہم، کانگریس نے حکومت کی اس پیش کش کو یہ کہتے ہوئے چیلنج کرنے کی کوشش کی ہے کہ صرف  ہیڈلائن جی ڈی پی نمو خاندانوں، مزدوروں، چھوٹے کاروباروں اور معاشرے کے دیگر طبقات کے معاشی حالات کو مناسب طریقے سے بیان نہیں کرتی۔

مسٹر رمیش کی جانب سے سابق فنانس سکریٹری کے جائزے کا حوالہ دینے کا فیصلہ اپوزیشن کی تنقید کو ایک اضافی معاشی زاویہ فراہم کرتا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کوبراہ راست نشانہ بناتے  ہوئے مسٹر رمیش نے کہا کہ تشہیر معاشی اعداد و شمار کی پیش کش کو بہتر بنا سکتی ہے لیکن معیشت کی بنیادی حالت کو نہیں بدل سکتی۔

انہوں نے کہا، "مودی حکومت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ پی آر جی ڈی پی کی تصویر کو چمکا سکتا ہے، لیکن یہ معیشت کو مضبوط نہیں کر سکتا۔" مسٹر رمیش نے مسٹر مودی کی شہریوں سے جی ڈی پی کے ان مضبوط اعداد و شمار پر جشن منانے کی حالیہ اپیل کا بھی حوالہ دیا، اور کہا کہ ان اعداد و شمار کو اب شدید جانچ پڑتال کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا، "یہ واضح ہے کہ جس جی ڈی پی پر مسٹر مودی ملک کے لوگوں کو پٹاخے پھوڑنے اور دیوالی منانے کے لیے کہہ رہے ہیں، اس پر خود ان کے اپنے سابق فنانس سکریٹری کی جانب سے سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔" کانگریس لیڈر کی اس مداخلت سے ہندوستان کی معاشی کارکردگی پر سیاسی محاذ آرائی مزید تیز ہونے کا امکان ہے، جس میں حکومت کی جانب سے معیشت کی مضبوطی کو اجاگر کرنے کے لیے سرکاری قومی کھاتوں کے اعداد و شمار پر انحصار کرنے کی توقع ہے، جبکہ اپوزیشن معاشی صحت کے اشاریوں کے طور پر روزگار، کھپت، سرمایہ کاری، عدم مساوات اور چھوٹے کاروباروں کی حالت پر توجہ مرکوز رکھے گی۔