نئی دہلی، 31 اگست (یو این آئی) صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ٹیکنالوجی (نِفٹ) سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنے والے نوجوانوں سے کہا ہے کہ ان کی سوچ عالمی ہونی چاہیے لیکن ان کی جڑیں اپنی مٹی کی خصوصیت اور اخلاقی اقدار سے جڑی رہنی چاہئیں۔
محترمہ مرمو نے پیر کے روز نِفٹ کی تقسیمِ اسناد کی تقریب کے موقع پر یہاں منعقدہ پروگرام میں کہا کہ نِفٹ کے طلباء رہے نوجوان جب اپنے پروڈکٹس کو شکل دیں، تو ان میں ہندوستان کی مہک بھی ہونی چاہیے۔ وہ جب غیر ملکی لوگوں کے لیے کپڑے بنائیں تو ہندوستان کی مہک، ہندوستان کی خوشبو نہیں چھوٹنی چاہیے۔
انہوں نے کہا، "زیادہ تر دیکھا گیا ہے، ہندوستان کے لوگ غیر ملکی لباس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، لیکن غیر ملکی لوگ ہندوستان کے لباس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، کیونکہ میں جب بیرونِ ملک جاتی ہوں، وہاں ہم لوگوں کو اکثر کہتے ہوئے سنتے ہیں کہ 'یہ آپ کی ساڑی بہت اچھی ہے۔' تو اس سمت کو، اس چیز کو ذہن میں رکھنا ہے کہ ان کی سہولت سے ان کی پسند کے لباس بھی بنانے چاہئیں، جو خوشی خوشی وہ بھی پہنیں۔"
انہوں نے کہا، "اس کوشش میں آپ یاد رکھیں کہ آپ کی سوچ عالمی ہو، لیکن آپ کی جڑیں اپنی مٹی کی خصوصیت اور اخلاقی اقدار سے جڑی ہوں۔ اس طرح وہ نہ صرف کامیاب پیشہ ور بنیں گے، بلکہ ہندوستان کے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ میں بھی اپنا تعاون دے سکیں گے۔ آپ عالمی سطح کے پروڈکٹس اور برانڈز بنائیں، لیکن یہ بھی یقینی بنائیں کہ وہ ماحول دوست ہوں۔ اپنے پروڈکٹس کے لیے مقامی سطح پر دستیاب خام مال کا استعمال ماحولیاتی تحفظ کی سمت میں اہم قدم ہوگا۔"
محترمہ مرمو نے کہا کہ بنگال کی کانتھا کڑھائی اور بہار کی سجنی ملک میں رائج ری سائیکلنگ کی روایت کی اہم مثالیں ہیں۔ ان فنون کی بنیادی روح یہی ہے کہ جو بچ گیا، اسے بیکار سمجھ کر پھینکنا نہیں ہے، بلکہ نیا روپ، نئی افادیت اور نئی قدر دینی ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ نِفٹ کے پالیسی سازوں نے پائیداری اور سماجی ذمہ داری کو ادارے کے ورک پلان میں اہم مقام دیا ہے۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چار دہائیوں میں نِفٹ نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر متعدد قابلِ ذکر کام کیے ہیں۔ ادارے کے سابق طلباء نے فیشن کے عالمی اسٹیج پر نیز بین الاقوامی فیشن اداروں میں اپنی پہچان بنائی ہے اور ملک کا وقار بڑھایا ہے۔ انہیں یہ جان کر خوشی ہو رہی ہے کہ نِفٹ کے متعدد پیشہ ور افراد نے فیشن کے شعبے میں ہندوستانی لباس، دستکاری اور ڈیزائن کی روایت کو عالمی سطح پر وقار دلانے میں تعاون دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا شعبہ صرف ہمارے ثقافتی ورثے کا حصہ نہیں ہے، بلکہ کروڑوں ہم وطنوں کے روزگار کا بھی ذریعہ رہا ہے۔ انہیں یہ جان کر خوشی ہو رہی ہے کہ نِفٹ کے مختلف مراکز میں اپنے اپنے علاقے کے بنکروں اور دستکاروں کو ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے کی جدید تکنیکوں سے واقف کرانے نیز ان کو مارکیٹ سے جوڑنے کے لیے 'کرافٹ کلسٹر انیشی ایٹو' جیسے پروگرام چلائے جا رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ روایتی کاریگروں کو ایسی مدد اور رہنمائی ملنی چاہیے جس سے ان کی اگلی نسل بھی فخر اور اعتماد کے ساتھ اس پیشے سے جڑی رہے۔
صدرِ جمہوریہ نے نِفٹ سے گریجویٹ نوجوانوں سے کہا کہ انہیں نِفٹ جیسے معتبر ادارے میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ جدت طرازی کی مہارت پیدا کرنے اور جدید ترین ٹیکنالوجی کا کامیاب استعمال کرنے کی تربیت اس ادارے نے انہیں دی ہے۔ ان کی فنکارانہ اور تخلیقی صلاحیتوں کو یہاں ایک نئی سمت ملی ہے۔ انہیں امید ہے کہ اس عمل میں وہ ہندوستان کے ٹیکسٹائل، دستکاری اور ڈیزائن کی مالامال اور متنوع روایت سے واقف ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ اپنے علم اور مہارت کے بل بوتے پر اس مالامال ورثے کو عصری مارکیٹوں اور نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑنے کی جدید کوششیں کریں گے۔
صدرِ جمہوریہ نے طلباء سے کہا کہ وہ ایسے وقت میں فیشن ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں کے گریجویٹ بن رہے ہیں، جب ہندوستان خود انحصاری کی متعدد جہتوں میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ آج ملک پہلے کے مقابلے کہیں زیادہ اعتماد کے ساتھ عالمی اسٹیج پر اپنے کردار کو وسعت دے رہا ہے۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ فیشن ٹیکنالوجی بھی ایک ایسا شعبہ ہے، جس میں عالمی سطح پر ہندوستان کا کردار بڑھانا بہت ممکن ہے۔ یہاں موجود نوجوانوں کو اس موقع کا فائدہ اٹھانا چاہیے۔ وہ امید کرتی ہیں کہ اپنے مختلف مراکز کے ذریعے یہ ادارہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے میں 'پائیدار مستقبل' کی اپنی کوششوں کے تحت سرکلر اکانومی کے ایسے طریقوں کو وسیع اور منافع بخش بنانے کے لیے موثر قدم اٹھائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سال 2047 تک وکست بھارت بنانے کے اہداف کو حاصل کرنے میں نوجوانوں کا اہم کردار ہے۔ آج نوجوان پڑھ لکھ کر صرف ملازمت کے پیچھے نہ بھاگیں بلکہ 'ملازمت لینے والے نہیں، بلکہ ملازمت دینے والے' بنیں۔ "جتنی بھی فیشن ڈیزائنر لڑکیاں، طلباء یہاں ہیں، وہ صرف اپنے لیے نہیں، دوسروں کے روزگار کے لیے بھی کوشش کر رہے ہیں اور آگے بھی اسی سمت میں زیادہ انقلاب کے لیے کوشش کریں گے۔ انہیں ایک ایسے معاشرے کی تعمیر میں تعاون کرنا ہے، جس میں ہر شہری کو قوم کی ترقی میں تعاون دینے کا مناسب موقع مل سکے۔"